جن ووٹروں کے نام خارج ہوں گے، انہیں قانونی مدد فراہم کریں گے: ممتا بنرجی

Wait 5 sec.

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعلان کیا ہے کہ عدالتی عمل کے دوران جن ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج کیے جائیں گے، ترنمول کانگریس انہیں قانونی مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی ایسے متاثرہ افراد کے لیے وکلا کا انتظام کرے گی تاکہ وہ اپنے حقوق کا دفاع کر سکیں۔ممتا بنرجی نے یہ بات مغربی بردوان ضلع کے پانڈویشور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ووٹر کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور پارٹی ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں عدالتی عمل کے دوران فہرست سے ہٹایا جا سکتا ہے۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق تقریباً 60 لاکھ معاملات عدالتی جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے، جن میں سے 32 لاکھ معاملات کی جانچ مکمل ہو چکی ہے۔ ان میں سے تقریباً 40 فیصد ایسے معاملات ہیں جن میں نام حذف کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، ایسے ووٹروں کو اپیل کا حق حاصل ہوگا اور وہ اس مقصد کے لیے قائم کیے گئے 19 اپیلیٹ ٹریبونلز میں رجوع کر سکیں گے۔بنگال کے ’زیر غور ووٹرس‘ کا قصہ… کنال چٹرجیاپنے خطاب میں ممتا بنرجی نے خواتین کو خاص طور پر آگے آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا مقابلہ کرنے میں خواتین کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام تر دباؤ اور حملوں کے باوجود آخرکار کامیابی ترنمول کانگریس کی ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی عمل میں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیاسی فائدے کے لیے غیر معمولی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں کووڈ وبا کے دوران دیکھا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔بنگال انتخابات: ممتا بنرجی کا جیت کا دعویٰ، ووٹر لسٹ میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات، بی جے پی پر شدید حملہممتا بنرجی نے آنے والے اسمبلی انتخابات کو “کوروکشیتر کا مہایودھ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ترنمول کانگریس پانڈوؤں اور بی جے پی کوروؤں کی نمائندگی کر رہی ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے ایل پی جی بکنگ کے نئے قواعد پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی بکنگ کی مدت 25 دن کر دی گئی ہے تو اس سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے اور ایسے فیصلے عوامی مفاد کے خلاف ہیں۔