سونا اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا اور ہفتے کے دوسرے کاروباری دن قیمتی دھاتیں مزید نیچے آ گئیں۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر چاندی کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں یہ گزشتہ بند سطح کے مقابلے میں تقریباً 4 اعشاریہ 5 فیصد یا 11 ہزار روپے سے زیادہ سستی ہو گئی۔ تازہ گراوٹ کے بعد چاندی اپنی بلند ترین سطح سے دو لاکھ چھ ہزار روپے سے زیادہ نیچے آ چکی ہے۔کاروبار کے آغاز پر ہی چاندی کی قیمت میں تیز گراوٹ دیکھی گئی۔ گزشتہ دن چاندی دو لاکھ روپے فی کلوگرام کی سطح سے نیچے آگئی تھی، تاہم بعد میں کچھ بحالی بھی ہوئی اور بندش کے وقت اس کی قیمت 225167 روپے رہی۔ منگل کو اس کی شروعات 212562 روپے سے ہوئی، جس کے بعد ایک ہی جھٹکے میں 11605 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔اگر چاندی کے بلند ترین سطح کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ قیمت اس کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ 29 جنوری کو چاندی پہلی بار 4 لاکھ روپے فی کلوگرام سے اوپر گئی تھی اور 420048 روپے کا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن اس کے بعد سے مسلسل گراوٹ کا رجحان برقرار ہے۔سونے کی قیمت میں بھی اسی طرح کمی دیکھی گئی ہے۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج پر اپریل کی ڈیلیوری والے سونے کی قیمت میں منگل کو آغاز ہی سے 2576 روپے فی دس گرام کی کمی آئی۔ پیر کے روز شدید گراوٹ کے بعد کچھ بحالی ہوئی تھی اور سونا 139260 روپے پر بند ہوا تھا لیکن منگل کو یہ گھٹ کر 126684 روپے پر پہنچ گیا۔سونے کے بلند ترین سطح سے موازنہ کریں تو یہ بھی خاصی گراوٹ کا شکار ہوا ہے۔ 29 جنوری کو سونے نے 193096 روپے فی دس گرام کی سطح چھوئی تھی، جبکہ موجودہ گراوٹ کے بعد یہ تقریباً 56412 روپے تک سستا ہو چکا ہے۔بین الاقوامی بازار میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملا ہے۔ کامیکس پر سونے کی قیمت تقریباً دو فیصد گر کر 4317 ڈالر فی اونس تک آگئی، جبکہ چاندی کی قیمت گھٹ کر 66 اعشاریہ 79 ڈالر فی اونس پر رہی۔ماہرین کے مطابق اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی نہ کرنے کے فیصلے نے بھی قیمتی دھاتوں کو متاثر کیا ہے۔ مضبوط ہوتا ہوا امریکی ڈالر بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔