واشنگٹن (24 مارچ 2026): ایران سے جنگ کے 24 ویں روز اچانک ٹرمپ نے کس کے دباؤ میں آ کر ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی ہے۔ایران کی اسرائیل اور امریکا سے جنگ 25 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران کئی بار ایران کو تباہ کرنے اور جنگ جیتنے کے دعوے کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے 24 ویں بڑا یو ٹرن لے لیا۔ٹرمپ جنہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت اور مہلت گزرنے کے بعد ایران کے تمام بجلی گھروں کو تباہ کرننے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم گزشتہ روز اچانک انہوں نے یہ دھمکی واپس لیتے ہوئے حملہ پانچ دن موخر کرنے اور ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی۔ہر وقت جنگ پر آمادہ اور ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواہشمند امریکی صدر ٹرمپ کے رویے میں اچانک یہ تبدیلی کیسے آئی۔ امریکی ادارے بلوم برگ نے اس سے پردہ اٹھا دیا۔بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدرٹرمپ نے اتحادیوں کی وارننگ کے بعد مذاکرات کا آغاز کیا۔ وہ خلیجی ملکوں کی وارننگ کے بعد ٹرمپ ایرانی انفرا اسٹرکچرکو تباہ کرنے سے پیچھے ہٹے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام کے تباہ کُن نتائج ہو سکتے ہیں۔ ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام تفصیلاتاس تنبیہہ کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران کو پانچ دن کی مہلت دے رہےہیں۔ اور تہران کے ساتھ نئی بات چیت شروع ہو رہی ہے، جس کے ذریعے وہ سمجھتے ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچ کر تنازع حل کیا جا سکتا ہے۔ایران جنگ: خطے میں اب تک کتنی اموات ہو چکیں، ہوشربا تفصیلات جاری