تہران (29 مارچ 2025): ایران نے اسرائیل پر ایک بار پھر کلسٹر بم برسا دیے ہیں، حیفا کی بندرگاہ پر اسرائیل کے اسٹریٹجک الیکٹرانک وار فیئر سینٹر، جدید ریڈار اور بین گوریون ایئربیس پر ایندھن ذخیرے کو ڈرون نے نشانہ بنایا۔ترک صحافی نے تل ابیب میں کلسٹر بم گرنے کی ویڈیو بھی بنا لی، وسطی اسرائیل کے شہر ایشتول میں ایرانی میزائل حملے میں 11 افراد زخمی ہوئے، حوثیوں نے بھی یمن سے اسرائیل پر میزائل داغے، حوثی ترجمان نے کہا مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں اسرائیلی فوجی مقامات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، حزب اللہ نے اسرائیلی مرکاوا ٹینک کو نشانہ بنانے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔گزشتہ روز دی اسرائیل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کے وسطی علاقے میں اس ہفتے کے اوائل میں ہونے والے ایک حملے کے دوران ایران کے ایک بیلسٹک میزائل سے داغا گیا کلسٹر ہتھیار ایک بم پروف کمرے کی دیوار سے ٹکرا کر اسے نقصان پہنچا گیا ہے، تاہم پناہ گاہ میں موجود افراد محفوظ رہے۔جمعہ کو جاری ہونے والی ہوم فرنٹ کمانڈ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پیتاح تکوا میں پیش آنے والا یہ واقعہ بظاہر پہلی بار ہے کہ کسی کلسٹر ہتھیار نے اسرائیل میں براہِ راست کسی بم پروف کمرے کو نشانہ بنایا ہو۔ تحقیقات کے مطابق منگل کے حملے کے دوران کئی کلوگرام بارودی مواد رکھنے والا ایک ذیلی بم (سب میونیشن) کھڑکی کے قریب بم پروف کمرے کی بیرونی دیوار سے ٹکرایا۔ہوم فرنٹ کمانڈ کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل موشے شلومو کے مطابق اسرائیل میں نئی عمارتوں میں بم پروف کمرے تعمیر کیے جا رہے ہیں، جو بیلسٹک میزائلوں کے حملوں کے دوران لوگوں کی جانیں بچا رہے ہیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںاسرائیلی فوج کے مطابق، ایران کے روایتی وارہیڈز کے برعکس کلسٹر بم فضا میں اترتے وقت اکثر بہت زیادہ بلندی پر کھل جاتے ہیں اور 24 سے 80 چھوٹے بموں میں تقسیم ہو کر تقریباً 10 کلومیٹر کے دائرے میں پھیل جاتے ہیں، جن میں ہر ایک میں چند کلوگرام دھماکا خیز مواد ہوتا ہے۔یہ بم خودکار رہنمائی یا پروپلشن کے بغیر زمین پر گرتے ہیں اور ٹکرانے پر پھٹنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ تاہم بعض ذیلی بم زمین سے ٹکرانے کے بعد بھی نہیں پھٹتے اور بعد میں لوگوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، کلسٹر بم وارہیڈز لے جانے والے میزائلوں کے گنجان آباد علاقوں میں گرنے کے 30 سے زائد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں 150 سے زیادہ علیحدہ مقامات متاثر ہوئے۔ان حملوں میں اسرائیل اور مغربی کنارے میں 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تازہ ترین واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا جب تل ابیب میں ایک شخص ہلاک ہوا۔گزشتہ ہفتے دی گارڈین نے رپورٹ کیا تھا کہ خرمشہر میزائل ایران کا جدید ترین بیلسٹک میزائل ہے، جو کلسٹر وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ میزائل اسرائیلی سیکیورٹی جائزوں میں ایک اہم خطرے کے طور پر سامنے آیا ہے، اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق ایران کی جانب سے کشیدگی کے بعد داغے جانے والے تقریباً آدھے میزائلوں میں کلسٹر وارہیڈز شامل تھے۔دی گارڈین کے مطابق ایرانی کلسٹر بم اسرائیلی فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کو بائی پاس کر رہے ہیں، کیوں کہ یہ سسٹم انٹرسپشن کے ذریعے انھیں نہیں روک پاتا۔ میزائل ماہر اور اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کے مشیر تال انبار نے کہا کہ کلسٹر ہتھیاروں کو روکنا بنیادی طور پر سنگل یونٹ میزائلوں کو روکنے سے زیادہ مشکل ہے کیوں کہ ان کے ہدف تک پہنچنے کے پروفائل میں کئی تکنیکی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ انٹرسپٹر تب مؤثر رہے گا اگر یہ کلسٹر بم تقسیم سے پہلے اس کے کیریئر کو نشانہ بنا دے۔