واشنگٹن(29 مارچ 2026): امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی ‘آپریشن ایپک فیوری’ کی تفصیلات جاری کر دی ہیںرپورٹ کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک ایران کے 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس دوران 11 ہزار سے زائد جنگی پروازیں کی گئیں جبکہ 150 سے زائد ایرانی بحری جہاز تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد ایرانی سیکیورٹی اور دفاعی نظام کو کمزور کرنا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے جدید طیارے، سمندری اور زمینی فورسز کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ایران کے قریب نیوکلیئر ایئر کرافٹ کیریئرز اور جدید آبدوزیں بھی تعینات ہیں، جبکہ کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی سے نمٹنے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل سسٹم الرٹ رکھے گئے ہیں۔کارروائی کے دوران ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز، انٹیلی جنس مراکز، بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروڈکشن سائٹس کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے بڑے اسلحہ ڈپو اور زیر زمین بنکرز بھی امریکی اہداف میں شامل ہیں۔