واشنگٹن (30 اپریل 2026): امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روزانہ نیتن یاہو سے بات چیت ہو رہی ہے، اور انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو لبنان پر حملے محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ایکسیوس کو بتایا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے کہا ہے کہ لبنان میں صرف ’’محدود اور ہدفی (سرجیکل)‘‘ فوجی کارروائی کریں اور مکمل جنگ دوبارہ شروع کرنے سے گریز کریں۔اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، حالاں کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دونوں ممالک کے سفیروں کے ساتھ دو اجلاس کر چکے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لبنان کی جنگ بندی ایران کے ساتھ جنگ بندی سے الگ ہے، تاہم وہاں جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں تہران کے ساتھ سفارتی عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور ان گھروں کو مسمار کر رہی ہے جنھیں وہ حزب اللہ کے استعمال میں ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ اسرائیلی افواج اور سرحدی دیہات پر راکٹ اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے بڑھا دیے ہیں، تاہم اسرائیلی حکومت پر مزید سخت کارروائی کے لیے دباؤ ہے، جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوں پر اسرائیلی حکام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔امریکی جنگی بیڑہ ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ طویل تعیناتی کے بعد گھر واپسی کے لیے پر تولنے لگااسرائیلی حکام کے مطابق ٹرمپ نے اس ہفتے روزانہ نیتن یاہو سے بات کی، اور اسرائیلی وزیر اعظم نے انھیں بتایا کہ حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں اسرائیل کو اپنی کارروائی مزید بڑھانا پڑے گی۔ ٹرمپ نے کہا میں نے نیتن یاہو سے کہا کہ وہ زیادہ سرجیکل اسٹرائیکس کریں، عمارتیں گرانا بند کریں۔ یہ بہت خوف ناک ہے اور اس سے اسرائیل کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ لبنان اور اس کی قیادت کو پسند کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ملک دوبارہ سنبھل سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ’’ایران نے لبنان کو تباہ کیا، اس کے پراکسی (حزب اللہ) نے لبنان کو نقصان پہنچایا، اور اگر ایران کمزور ہو جائے تو حزب اللہ بھی خود بخود کمزور ہو جائے گی۔‘‘ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہو رہی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق حزب اللہ اس جنگ بندی کا فریق نہیں اور اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی عہدیدار نے کہا کہ حزب اللہ کی حکمت عملی اشتعال دلانا، حملہ کرنا اور پھر الزام اسرائیل پر ڈالنا ہے تاکہ مذاکرات ناکام ہوں اور لبنانی حکومت کمزور دکھائی دے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے اسرائیل سے ’’تحمل کا مظاہرہ‘‘ کرنے اور سفارتی عمل کو موقع دینے کا کہا ہے۔امریکی حکام کے مطابق حزب اللہ کے خلاف سیاسی دباؤ بڑھانے اور لبنانی فوج کو مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ لبنانی قیادت پر ایک طرف امریکا کی جانب سے حزب اللہ کو کمزور کرنے کا دباؤ ہے، دوسری طرف جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی، دیہات کی تباہی اور فضائی حملوں پر داخلی دباؤ کا سامنا ہے۔ایک سینئر لبنانی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ بیروت کو خدشہ ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی حزب اللہ کو مزاحمتی قوت کے طور پر دوبارہ مضبوط کر سکتی ہے۔ اسی دوران حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان اس ہفتے غیر معمولی عوامی بیانات میں ایک دوسرے پر غداری کے الزامات بھی لگائے گئے۔ایکسیوس کے مطابق وائٹ ہاؤس اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم متعلقہ فریقین اس کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ ٹرمپ نیتن یاہو اور جوزف عون کے ساتھ سہ فریقی اجلاس چاہتے ہیں، لیکن امکان کم ہے کہ لبنانی صدر کسی واضح پیش رفت کے بغیر اس پر آمادہ ہوں۔ صدر ٹرمپ کو انکار کرنا مشکل ہے، لیکن جب تک لبنان میں تباہی اور جانی نقصان جاری ہے، اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات برقرار رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔