پیوٹن کی یوکرین کو عارضی جنگ بندی کی پیشکش، ٹرمپ کا خیر مقدم

Wait 5 sec.

ماسکو (30 اپریل 2026): روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کو وکٹری ڈے کے موقع پر جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیر مقدم کیا ہے، تاہم یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ اس مجوزہ جنگ بندی کی تفصیلات واضح کر دیں۔کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے بدھ کے روز بتایا کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلیفون پر ایران اور یوکرین سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، اوشاکوف کے مطابق یہ گفتگو 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور اسے کھلے اور پیشہ ورانہ انداز کی بات چیت قرار دیا گیا۔ یہ فون کال ماسکو کی جانب سے کی گئی تھی۔انھوں نے بتایا کہ دونوں صدور نے خاص طور پر ایران اور خلیج فارس کی صورت حال پر توجہ دی۔ ولادیمیر پیوٹن کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ درست ہے، کیوں کہ اس سے مذاکرات کو موقع ملے گا اور مجموعی طور پر صورت حال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔تاہم انھوں نے مزید کہا کہ پیوٹن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائی کرتے ہیں تو اس کے ناگزیر اور انتہائی نقصان دہ نتائج نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روزانہ نیتن یاہو سے بات چیت ہو رہی ہے، ایکسیوسواشنگٹن میں ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی پیوٹن سے ’’بہت اچھی گفتگو‘‘ ہوئی، تاہم ان کے مطابق بات چیت زیادہ تر یوکرین کی جنگ پر مرکوز رہی، ایران پر کم۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ پیوٹن ایران کے خلاف امریکا-اسرائیل جنگ کے خاتمے میں مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن انھوں نے روسی صدر سے کہا کہ وہ پہلے یوکرین پر حملہ ختم کریں۔اوشاکوف نے یوکرین جنگ سے متعلق بھی دونوں رہنماؤں کی گفتگو پر بریفنگ دی، جو فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔اوشاکوف کے مطابق پیوٹن نے کہا کہ وہ یومِ فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی کا اعلان کرنے کے لیے تیار ہیں، اور ٹرمپ نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن مشترکہ فتح کی یادگار ہے۔ واضح رہے کہ روس ہر سال 9 مئی کو یومِ فتح مناتا ہے، جو دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی پر سوویت فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے، اور اس موقع پر ماسکو میں فوجی پریڈ منعقد کی جاتی ہے۔یاد رہے کہ پیوٹن نے گزشتہ سال بھی 9 مئی کو نازی جرمنی کی شکست کی یاد میں تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم یوکرین نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین طویل المدتی جنگ بندی کا حامی ہے، نہ کہ ایسی عارضی جنگ بندی کا جو ماسکو میں ایک پریڈ کے لیے چند گھنٹوں کا تحفظ فراہم کرے۔