دبئی(یکم مئی 2026): آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سمندری تجارتی راستوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور سمندری رسائی متاثر ہونے کے بعد اب کنٹینر ٹریفک کو بڑے پیمانے پر زمینی راستوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جہاز مالکان نے خلیجی ممالک تک خوراک اور صنعتی سامان پہنچانے کے لیے سمندر کے بجائے ٹرکوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ خلیجی ساحلی ممالک تک براہِ راست سمندری رسائی معطل ہونے کے بعد متبادل لاجسٹک راستے مکمل طور پر فعال کر دیے گئے ہیں۔اس نئی صورتحال میں سعودی عرب کی بندرگاہ ‘جدہ ریڈ سی’ ایک نئے علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے۔ ایم ایس سی، سی ایم اے سی جی ایم، مرسک اور کوسکو جیسی بڑی شپنگ کمپنیوں کے جہاز نہرِ سوئز کے ذریعے جدہ پہنچ رہے ہیں، جہاں سے کارگو کو صحرائی شاہراہوں کے ذریعے شارجہ، بحرین اور کویت منتقل کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق عمان کی صحار بندرگاہ جبکہ متحدہ عرب امارات کی خورفکان اور فجیرہ بندرگاہیں بھی متبادل تجارتی راستوں کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب اردن کی عقبہ بندرگاہ عراق کے شہروں بغداد اور بصرہ تک سامان پہنچانے کا اہم مرکز بن گئی ہے، جبکہ ترکیہ کے ذریعے شمالی عراق تک تجارتی راہداری کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔