امریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف

Wait 5 sec.

واشنگٹن (یکم مئی 2026): امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد پہلی بار کانگریس کے سامنے پیش ہوئے، جہاں انہوں نے جنگی اقدامات کا بھرپور دفاع کیا اور مخالف ارکان پر برس پڑے۔سماعت کے دوران کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹ رکن جان گارامندی نے ایران جنگ کو ‘دلدل’ قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی اور معاشی تباہی قرار دیا، جس پر وزیر دفاع سخت غصے میں آگئے۔پیٹ ہیگسیتھ نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ اسے دلدل کہہ کر ہمارے دشمنوں کو پراپیگنڈے کا موقع دے رہے ہیں، اس بیان پر آپ کو شرم آنی چاہیے۔’انہوں نے ڈیموکریٹس کو لاپروا، عیب جو اور شکست خوردہ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ‘ایک طرف آپ فوجیوں کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف دو ماہ کے مشن کو دلدل کہہ رہے ہیں، آپ کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟ ایران جنگ کوئی دلدل نہیں ہے۔’دورانِ سماعت وزیر دفاع نے امریکی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے اہم انکشافات بھی کیے۔ ایریزونا کے سینیٹر مارک کیلی کے سوال پر پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا کہ امریکا کے خالی ہونے والے اسلحہ کے ذخائر کی بحالی میں چند مہینوں سے لے کر کئی برس لگ سکتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ گولہ بارود راتوں رات تیار نہیں کیا جا سکتا اور اس عمل کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔ڈیموکریٹس امریکا کے ایک طویل المدتی تنازع میں پھنسنے کی وارننگ دے رہے ہیں جبکہ دفاعی انتظامیہ اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ کارروائیاں وقت اور فوجی لحاظ سے محدود منصوبے کے مطابق چل رہی ہیں۔