بی جے پی میں شامل ہوئے سندیپ پاٹھک کے خلاف پنجاب میں 2 ایف آئی آر درج، ہو سکتے ہیں گرفتار!

Wait 5 sec.

 پنجاب پولیس نے راجیہ سبھا کے رکن سندیپ پاٹھک کے خلاف 2 ایف آئی آر درج کی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سندیپ پاٹھک کے خلاف بدعنوانی اور استحصال سے متعلق الزامات میں یہ ایف آئی آر ہوئی ہیں اور غیر ضمانتی دفعات کے تحت معاملے درج کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سندیپ پاٹھک نے حال ہی میں عام آدمی پارٹی (عآپ) چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔رپورٹس کے مطابق سندیپ پاٹھک کو گرفتار کرنے کے لیے پنجاب پولیس دہلی واقع ان کے گھر پہنچی لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ ’ہندوستان ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ پاٹھک کے خلاف مقدمات کیوں درج کیے گئے ہیں، لیکن سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ مقدمات غیر ضمانتی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں ایک افسر نے بتایا کہ پاٹھک کے خلاف یہ ایف آئی آر پنجاب کے دو مختلف اضلاع میں درج کی گئی ہیں۔ افسر نے مزید کہا کہ پاٹھک کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ | Punjab Police register two FIRs against former AAP MP Sandeep Pathak after his BJP merger. Pathak evades Punjab Police, leaves Pandara Park residence ahead of raid.Read More: https://t.co/fwzBM5njmy#BreakingNews #PunjabPolice #SandeepPathak #AAP #BJP #PoliticalNews… pic.twitter.com/KfqXcezb71— The Statesman (@TheStatesmanLtd) May 2, 2026بی جے پی کی سیٹیں کم ہوئیں، عآپ نے ملک کے لئے کام کیا: سندیپ پاٹھکاس دوران سندیپ پاٹھک نے کہا کہ مجھے ایسی کسی ایف آئی آر کا علم نہیں ہے اور نہ ہی کسی پولیس افسر نے مجھے اطلاع دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ساری زندگی ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ ملک کی خدمت کی ہے۔ ملک کسی بھی پارٹی سے بڑا ہے، میں کبھی بھی اسے دھوکہ نہیں دوں گا اور نہ کسی کو دینے دوں گا۔ سندیپ کا کہنا ہے کہ اگر مجھ جیسے شخص کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنے خوفزدہ ہیں۔پاٹھک ان 7 راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ میں شامل تھے جنہوں نے اے اے پی چھوڑ کر راگھو چڈھا کی قیادت میں 25 اپریل کو بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ آئی آئی ٹی دہلی کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر پاٹھک نے 2022 میں اے اے پی میں شامل ہوئے تھے۔ اسی سال انہیں پارٹی نے پنجاب سے راجیہ سبھا کے لیے بھیجا تھا۔ سندیپ کو پنجاب میں ’اے اے پی کا چانکیہ‘ کہا جاتا تھا تاہم پارٹی چھوڑنے کے بعد وہ نئی مشکلات کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔