مہاراشٹر ایم ایل سی الیکشن: ذیشان صدیقی نے کاغذات نامزدگی کئے داخل، ’اجیت دادا‘ کے خوابوں کو پورا کرنے کا عزم

Wait 5 sec.

مہاراشٹر کے آئندہ قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) انتخاب کے لیے جمعرات (30 اپریل) کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے لیڈر ذیشان صدیقی نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر دیے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’ہم اجیت دادا کے خوابوں کو پورا کریں گے۔ ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے اور ان کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔‘‘سابق ایم ایل اے ذیشان صدیقی نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’اجیت دادا (سابق نائب وزیر اعلیٰ آنجہانی اجیت پوار) کا خواب پورے مہاراشٹر اور ملک میں پورا کرنا ہے۔ آج میرے والد (بابا صدیقی) بھی نہیں ہیں اور اجیت دادا بھی نہیں ہیں۔ وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے، آج ہمیں دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے۔ ابھی بہت کام کرنا ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں اور خواتین کو جوڑنا ہے۔ اقلیتوں اور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے کام کرنا ہے اور پوری ممبئی، مہاراشٹر اور ملک میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا پرچم ضرور لہرانا ہے۔‘‘#WATCH | Mumbai | Zeeshan Siddique, Nationalist Congress Party (NCP) leader and former MLA, filed his nomination for the upcoming Maharashtra Legislative Council (MLC) elections.He says, "...We will fulfil the dream of Ajit Dada...We will work to take everyone along and work… pic.twitter.com/npGGKZFKwh— ANI (@ANI) April 30, 2026واضح رہے کہ آج کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ یعنی 30 اپریل ہے۔ نامزدگی کے کاغذات کی جانچ 2 مئی کو ہوگی، جبکہ نام واپس لینے کی آخری تاریخ 4 مئی ہے۔ 13 مئی کو 9 اراکین ریٹائر ہو رہے ہیں، جن میں سابق وزیر اعلیٰ اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے بھی شامل ہیں۔ انتخاب کے لیے ووٹنگ 12 مئی کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی اور اسی روز شام 5 بجے ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ انتخاب کا پورا عمل 13 مئی تک مکمل کر لیا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ ایک امیدوار کو جیتنے کے لیے 28 ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکمراں جماعت مہایوتی اتحاد میں بی جے پی کے پاس 132، ایکناتھ شندے کی شیو سینا کے پاس 57 اور اجیت پوار کی این سی پی کے پاس 41 اراکین اسمبلی ہیں۔ اس بنیاد پر یہ اتحاد اپنے 8 امیدواروں کو کامیاب کرا سکتے ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے پاس کل 46 اراکین اسمبلی ہیں، جس سے وہ ایک امیدوار کو جتا سکتے ہیں۔ دوسرے امیدوار کو جتوانے کے لیے اسے مزید 10 ووٹوں کی ضرورت ہوگی، جو موجودہ صورتحال میں مشکل نظر آ رہا ہے۔