گجرات بی جے پی کے صدر جگدیش وشوکرما کے ایک مبینہ توہین آمیز بیان پر کانگریس نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے اور اسے خواتین کی بے عزتی ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کے مطابق وشوکرما نے پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ گینی بین ٹھاکور کے بارے میں نہایت نامناسب اور غیر شائستہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر کانگریس نے بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔'हमने गेनीबेन ठाकोर की साड़ी के पल्लू में बंधी पंचायत सीटें खींच ली हैं'- ये घटिया बात गुजरात BJP अध्यक्ष जगदीश विश्वकर्मा ने कही हैमहिला सांसद गेनीबेन ठाकोर जी पर जगदीश विश्वकर्मा द्वारा की गई यह भद्दी टिप्पणी बेहद अपमानजनक है।जगदीश विश्वकर्मा का बयान न सिर्फ उनकी घटिया… pic.twitter.com/Vu4K236bLO— Congress (@INCIndia) May 2, 2026کانگریس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہم نے گینی بین ٹھاکور کی ساڑی کے پلّو میں بندھی پنچایت سیٹیں کھینچ لی ہیں... یہ گھٹیا بات گجرات بی جے پی صدر جگدیش وشوکرما نے کہی ہے۔ خاتون رکن پارلیمنٹ گینی بین ٹھاکور پر جگدیش وشوکرما کے ذریعہ کیا گیا یہ تبصرہ انتہائی شرمناک اور ہتک آمیز ہے۔‘‘ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی زبان نہ صرف ایک خاتون عوامی نمائندہ کی توہین ہے بلکہ اس سے بی جے پی کی خواتین کے تئیں سوچ بھی ظاہر ہوتی ہے۔کانگریس نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے لیڈران کو خواتین کے خلاف نازیبا بیانات دینے کی گویا ترغیب دیتی ہے، اور کوئی لیڈر جتنا زیادہ غیر مہذب بات کرے، اسے اتنی ہی بڑی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کو اپنے صدر کے اس بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔गुजरात के भाजपा अध्यक्ष ने कांग्रेस की हमारी महिला सांसद गेनीबेन ठाकोर जी पर अभद्र टिप्पणी की है।“नारी वंदन” का मुखौटा उतर गया।यह सिर्फ़ शर्मनाक नहीं - यह BJP की मनुवादी, महिला-विरोधी विचारधारा का असली चेहरा है।ये है BJP का “नारी वंदन”?ये करेंगे महिलाओं का सशक्तिकरण?ये…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) May 2, 2026دوسری طرف لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی اس معاملے پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے گجرات بی جے پی صدر کے بیان کو خواتین کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’گجرات بی جے پی صدر نے کانگریس کی ہماری خاتون رکن پارلیمنٹ گینی بین ٹھاکر پر جو نازیبا تبصرہ کیا، اس سے ’ناری وندن‘ جیسے نعروں کے پیچھے چھپی حقیقت اب سامنے آ گئی ہے۔ یہ واقعہ بی جے پی کی خواتین مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ جو پارٹی اس طرح کی زبان استعمال کرتی ہے، وہ خواتین کو بااختیار بنانے یا انہیں حقوق دینے کی بات کیسے کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو خواتین اقتدار کو چیلنج کرتی ہیں، بی جے پی انہیں برداشت نہیں کر پاتی اور فوراً ان کے خلاف غیر مناسب رویہ سامنے آ جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ خود یہ کہہ چکے ہیں کہ عورت اپنی توہین کبھی نہیں بھولتی، لیکن بی جے پی اس بات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ گجرات سمیت پورے ہندوستان کی خواتین اس طرح کی توہین کا منھ توڑ جواب دیں گی۔