امریکا نے ایران کو معاہدے کیلئے دیئے گئے مطالبات میں جوہری معاملہ دوبارہ شامل کرلیا، ایگزیوس

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کو معاہدے کیلئے دیئے گئے مطالبات میں جوہری معاملہ دوبارہ شامل کرلیا۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے اپنے مطالبات کو مزید سخت کر دیا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس نے بتایا کہ امریکہ نے مذاکرات کی بحالی کے لیے جوہری معاملے کو ایک بار پھر ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے۔ایگزیوس’ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر اسٹیو وٹکوف نے مجوزہ معاہدے میں نئی ترامیم ایران کو بھجوا دی ہیں۔ان ترامیم کے تحت ایران کو یہ تحریری وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کے دوران افزودہ یورینیم کی کسی بھی قسم کی منتقلی نہیں کرے گا جبکہ تہران کو یہ پختہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ اس کی جوہری تنصیبات پر کسی بھی قسم کی نئی سرگرمی شروع نہیں کی جائے گی۔دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم نے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس منصوبے میں ایرانی بندرگاہوں کے گھیراؤ کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی طویل مدتی بندش بھی شامل ہے، جس کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر روکنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان سخت مطالبات اور معاشی ناکہ بندی کے منصوبے کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر اپنی شرائط منوانے کے لیے مجبور کرنا ہے۔امریکہ کی جانب سے جوہری معاملے کی واپسی ظاہر کرتی ہے کہ نئی انتظامیہ تہران کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے سے قبل اس کے جوہری اثاثوں پر مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔