نئی دہلی: سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں اپریل کے مہینے میں بجلی کی کھپت میں 4.04 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جس کے بعد مجموعی کھپت 153.99 بلین یونٹ تک پہنچ گئی۔ اگرچہ مہینے کے ابتدائی حصے میں بادل برسنے اور درجہ حرارت میں کمی کے سبب مانگ کی رفتار نسبتاً سست رہی، تاہم ماہ کے دوسرے حصے میں گرمی بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کی کھپت میں تیزی دیکھی گئی۔گزشتہ سال اپریل 2025 میں ملک کی مجموعی بجلی کھپت 148.01 بلین یونٹ ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے مقابلے میں اس سال واضح اضافہ سامنے آیا ہے۔ 25 اپریل کو ملک میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ مانگ 256.11 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ ملک بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ اور گھروں کے ساتھ ساتھ تجارتی مقامات پر ایئر کنڈیشنر اور دیگر ٹھنڈک فراہم کرنے والے آلات کا بڑھتا استعمال بتایا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں بجلی کی مانگ مزید بڑھے گی۔ بجلی وزارت کے اندازے کے مطابق رواں گرمیوں کے موسم میں زیادہ سے زیادہ مانگ 270 گیگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اپریل کے وسط سے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے نے کھپت کو تیزی سے بڑھایا ہے، جس کا اثر مئی اور جون میں مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 5 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جس کے باعث ہیٹ اسٹریس کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال جون 2025 میں زیادہ سے زیادہ بجلی کی مانگ 242.77 گیگاواٹ ریکارڈ کی گئی تھی، جو سرکاری اندازوں سے کم تھی، تاہم اس سال صورتحال زیادہ سخت ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔محکمہ موسمیات نے اپریل سے جون 2026 کے درمیان شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔ خاص طور پر شمالی ہندوستان کے گنگا کے میدانوں، وسطی علاقوں اور مشرقی ساحلی ریاستوں میں گرمی کی شدت زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ نمی کی بلند سطح اس خطرے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔دوسری جانب، شمسی توانائی ملک کے توانائی نظام میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے مطابق 31 مارچ 2026 تک شمسی توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 150.26 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اضافہ مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ سطح پر نئے منصوبوں کے شامل ہونے کے باعث ممکن ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شمسی توانائی نہ صرف بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے میں مدد دے رہی ہے بلکہ حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔