ڈونلڈ ٹرمپ کا چودہ نکاتی تجاویز پر رد عمل

Wait 5 sec.

واشنگٹن (03 مئی 2026): ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ ایران کی طرف سے جمع کرائی گئی نئی امن ڈیل کا جلد جائزہ لیں گے۔ اس سے قبل دن میں ایرانی سرکاری میڈیا ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے امریکا کو 14 نکاتی تجاویز بھیج دی ہیں۔جب صدر ٹرمپ ایئر فورس وَن میں سوار ہو کر فلوریڈیا کے شہر ڈورل جانے والے تھے تو انھوں نے پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’میں نے تجاویز کو ابھی تک نہیں دیکھا۔‘‘ٹرمپ نے کہا ’’میں یہاں اوپر اس کا جائزہ لے رہا ہوں۔ میں آپ کو بعد میں اس کے بارے میں بتاؤں گا… انھوں نے مجھے معاہدے کا ایک خاکہ بتایا ہے لیکن اب وہ مجھے اس کے درست الفاظ فراہم کریں گے۔‘‘ایران نے پاکستان کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو 14 نکاتی منصوبہ بھیج دیابعد میں صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ وہ ’’جلد ہی اس منصوبے کا جائزہ لیں گے جو ایران نے ہمیں ابھی بھیجا ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ قابل قبول ہوگا، کیوں کہ انھوں نے گزشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘‘اس بیان کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے ہی عندیہ دے دیا ہے کہ وہ ایرانی تجاویز کو اتنی آسانی سے قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹرتھ سوشل پر پوسٹ سے قبل ایرانی تجاویز دیکھ چکے تھے۔خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ ’’دشمنی‘‘ ختم ہو چکی ہے۔ انھوں نے ایک پرانے قانون کے تحت 60 دن کی اہم ڈیڈ لائن کا حوالہ دیا تھا، جو کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی طاقت کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔