فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان سمیت 11 ممالک کا اعلامیہ

Wait 5 sec.

کراچی (یکم مئی 2026): پاکستان سمیت گیارہ ممالک کی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔پاکستان، ترکیہ، برازیل، اسپین، ملائشیا، بنگلادیش، کولمبیا، اردن، لیبیا، مالدیپ اور جنوبی افریقہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔گیارہ ممالک نے فلوٹیلا پر اسرائیل کت حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں امدادی کارکنوں کی غیر قانونی حراست کی شدید الفاظ میں مذمت اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا پُرامن شہری اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام تھا اور اس فلوٹیلا کا مقصد غزہ میں جاری انسانی المیے کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا تھا۔اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیلی حکام کارکنوں کی فوری رہائی یقینی بنانے کیلیے ضروری اقدامات کریں۔ عالمی برادری بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور شہریوں کے دفاع کیلیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی خلاف ورزیوں پر احتساب یقینی بنانا عالمی برادری کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلیے امداد لے جانے والے صمود فلوٹیلا کو روک کر اس میں شامل متعدد کشتیوں کو گھیر لیا اور امدادی کارکنوں کوحراست میں لے لیا۔منتظمین کا کہنا ہے اسرائیلی فوج نے ڈرونز، کمیونیکیشن جیمنگ ٹیکنالوجی اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے بحیرہ روم کے وسط میں فلوٹیلا کو روکنے کیلیے کارروائی کی۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے امدادی قافلے کے بیس جہازوں پر سوار 175 کارکنوں کو حراست میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام افراد کو یونان کے حوالے کیا جائے گا۔اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا اعلان