’مالک کے لیے کچھ بھی...‘، کانگریس نے مودی حکومت کے ’گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘ کی خامیوں سے اٹھایا پردہ

Wait 5 sec.

’’مالک کے لیے کچھ بھی...۔‘‘ کانگریس نے یہ عنوان اس گرافکس کے لیے لگایا ہے، جو کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا گیا ہے۔ اس گرافکس میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور مشہور صنعت کار گوتم اڈانی کو ہاتھ ملاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور اوپر لکھا گیا ہے ’’مالک ہو آپ میرے‘‘، ساتھ ہی پی ایم مودی کی شبیہ کو کہتے دکھایا گیا ہے کہ ’’بتاؤ، کون سا جنگل کاٹنا ہے۔‘‘मालिक के लिए कुछ भी... pic.twitter.com/H9qKyFF9aG— Congress (@INCIndia) May 2, 2026دراصل ’گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘ کے لیے مودی حکومت نے منظوری دے دی ہے، اور یہ گوتم اڈانی کے حصے میں گیا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس اور کانگریس کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ سے گریٹ نکوبار کو تباہی کا سامنا ہوگا۔ اس منصوبہ سے ماحولیات کو تو نقصان ہوگا ہی، ایک بڑی مقامی آبادی مستقل نقل مکانی کے لیے مجبور ہو جائے گی۔ کانگریس نے آج اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ’گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘ سے ہونے والے ممکنہ نقصان کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ پوسٹس کی ہیں، جن میں ایک ویڈیو بھی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ ’’اڈانی کے منافع کے لیے گریٹ نکوبار میں کروڑوں درخت کاٹے جائیں گے، قبائلی بے گھر کیے جائیں گے، برساتی جنگل کو تباہ کیا جائے گا۔‘‘अडानी के मुनाफे के लिए ग्रेट निकोबार में • करोड़ों पेड़ काटे जाएंगे • आदिवासी बेघर किए जाएंगे • Rainforest तबाह किया जाएगा pic.twitter.com/0gpsiBwLOU— Congress (@INCIndia) May 2, 2026ویڈیو میں بیک گراؤنڈ سے آواز دی گئی ہے اور گریٹ نکوبار کے مناظر اور وہاں کی آبادی کو دکھایا گیا ہے۔ آن لائن انگریزی نیوز پورٹل ’اسکرول ڈاٹ اِن‘ کی ایک رپورٹ کی سرخی بھی دکھائی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے لیے 8.5 لاکھ نہیں، بلکہ ایک کروڑ درخت کاٹے جائیں گے۔ ویڈیو میں بیک گراؤنڈ سے دی گئی آواز میں کہا گیا ہے کہ ’’نریندر مودی اپنے دوست اڈانی کے لیے گریٹ نکوبار کو برباد کرنے پر آمادہ ہیں۔ کیونکہ اس پروجیکٹ سے ترقی نہیں بلکہ تباہی ہوگی۔‘‘This isn’t progress.It’s profit over people. pic.twitter.com/E1v7tFIg5g— Congress (@INCIndia) May 2, 2026’گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘ سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ کے تحت مبینہ طور پر کروڑوں درخت کاٹ کر جنگل مٹایا جائے گا۔ شومپین اور نکوباری قبائل بے گھر ہو جائیں گے۔ ہزاروں ایکڑ میں پھیلے ہوئے برساتی جنگل ختم ہو جائیں گے۔ یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ کی وجہ سے زلزلہ کا خطرہ بڑھ جائے گا، لیکن نریندر مودی کو اس سب سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ انھیں صرف اپنے امیر دوست اڈانی کا منافع نظر آتا ہے، ملک کا نقصان نہیں۔