استنبول(2 مئی 2026): اسرائیل کی جانب سے روکے گئے صمود فلوٹیلا کے بیشتر انسانی حقوق کے کارکن ترکیہ پہنچ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق استنبول پہنچنے والوں میں 10 ملائیشین شہریوں سمیت صمود فلوٹیلا کے دیگر ارکان شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 18 ممالک کے انسانی حقوق مشن سے وابستہ 175 کارکنوں کو لیرا پیٹرا پورٹ پر رہا کیا گیا تھا، جن کی واپسی ترکش ائیرلائنز کی پرواز کے ذریعے ممکن ہوئی۔فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان سمیت 11 ممالک کا اعلامیہواضح رہے کہ ان 49 انسانی حقوق کے کارکنان کو امدادی مشن کے دوران سمندر سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد اب ان کی مرحلہ وار واپسی کا عمل مکمل ہو رہا ہے۔منتظمین کا کہنا تھا اسرائیلی فوج نے ڈرونز، کمیونیکیشن جیمنگ ٹیکنالوجی اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے بحیرہ روم کے وسط میں فلوٹیلا کو روکنے کیلئے کارروائی کی تھی۔اسرائیلی وزارت خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ امدادی قافلے کے بیس جہازوں پر سوار ایک سو پچھتر کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، تمام افراد کو یونان کے حوالے کیا جائے گا۔