بہار میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بنتے ہی ’نام بدلنے کا کھیل‘ شروع، چڑیا گھر اور ڈیری انسٹی ٹیوٹ سے سنجے گاندھی کا نام ہٹا

Wait 5 sec.

دیگر بی جے پی حکمراں ریاستوں کی طرح اب بہار میں بھی ’نام بدلنے کا کھیل‘ شروع ہو گیا ہے۔ بہار میں پہلی بار بی جے پی کا کوئی لیڈر وزیر اعلیٰ بنا ہے، اور اس کے ساتھ ہی حکومت کے فیصلوں پر بی جے پی نظریات کا عکس بھی صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت والی حکومت نے پٹنہ واقع تاریخی چڑیا خانہ اور ڈیری ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے نام بدلنے کا اعلان کر دیا ہے۔ چڑیا خانہ اور انسٹی ٹیوٹ کے نام پہلے سنجے گاندھی کے نام پر ہوا کرتے تھے، لیکن اب حکومت نے ان دونوں کے نام تبدیل کر دیے ہیں۔Bihar Govt removes Sanjay Gandhi's name from Patna zoo, dairy technology institute.— News Arena India (@NewsArenaIndia) April 30, 2026دی گئی جانکاری کے مطابق ’سنجے گاندھی بایولوجیکل پارک‘ کا نام بدل کر حکومت نے اب ’پٹنہ زو‘ اور ’سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیری ٹیکنالوجی‘ کا نام بدل کر ’بہار اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف ڈیری ٹیکنالوجی‘ کر دیا ہے۔ سمراٹ کابینہ کی میٹنگ میں بدھ کے روز نام بدلنے کے ان تجاویز پر مہر لگ گئی۔ پٹنہ کے بیلی روڈ کے پاس واقع چڑیا خانہ سال 1973 میں عام لوگوں کے لیے کھولا گیا تھا، اور تب سے ہی یہ سیاحوں کی کشش کا مرکز بنا ہوا ہے۔بہار حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے اس چڑیا گھر کا نام سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بڑے بیٹے سنجے گاندھی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ 153 ایکڑ میں پھیلے اس چڑیا گھر میں 110 سے زیادہ اقسام کے 800 سے زائد جانور ہیں۔ اسی طرح سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیری ٹیکنالوجی، پٹنہ کو آئی سی اے آر سے منظوری حاصل ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کا قیام بہار حکومت نے 1980 میں کیا تھا۔ یہاں ڈیری ٹیکنالوجی میں بی ٹیک اور ایم ٹیک جیسے کورسز چلائے جاتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی کانگریس کے لیڈر تھے۔ سنجے گاندھی کی اہلیہ مینکا گاندھی بی جے پی میں ہیں اور اتر پردیش سے لوک سبھا رکن بھی رہ چکی ہیں۔ سنجے گاندھی کے بیٹے ورون گاندھی بھی بی جے پی میں ہی ہیں اور ایک وقت پارٹی کے فائر برانڈ لیڈروں میں شمار کیے جاتے تھے۔