نئی دہلی(30 اپریل 2026): بھارت نے بنگلا دیش کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مگرمچھوں اور سانپوں جیسے خطرناک رینگنے والے جانوروں کو استعمال کرنے کا ایک انوکھا اور متنازع منصوبہ تیار کیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سرحدی فورس (بی ایس ایف) نے ان حساس دریائی علاقوں میں جہاں خاردار باڑ لگانا جغرافیائی طور پر مشکل ہے، متبادل کے طور پر ریپٹائلز تعینات کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔بی ایس ایف کے 26 مارچ کے ایک مراسلے میں متعلقہ حکام سے اس حوالے سے فزیبلٹی رپورٹ طلب کی گئی ہے کہ آیا ان علاقوں میں خطرناک جانور چھوڑ کر سرحد کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماحولیاتی ماہرین نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحد پر مگرمچھ اور زہریلے سانپ چھوڑنے سے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ اس سے مقامی آبادی، مویشیوں اور خطے کے قدرتی ماحول کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کا قدم انسانی جانوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔