فلوریڈا (02 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ہم جنگ میں ہیں کیوں کہ، میرا خیال ہے آپ بھی اس سے اتفاق کریں گے، کہ ہم پاگلوں کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جب انھوں نے کہا کہ امریکا جنگ کی حالت میں اس لیے ہے کہ کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک سکے، تو اس پر ہزاروں لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں اور امریکا امریکا کے نعرے لگانے لگے، یہ منظر دیکھ کر ٹرمپ بھی بہت خوش ہوئے۔امریکی صدر نے کہا ایران کے پاس کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں ہونا چاہیے، ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ٹکڑے ہو جاتے۔انھوں نے کہا ایرانی رجیم نے ہفتوں میں 42 ہزار حکومت مخالف مظاہرین کو قتل کیا تھا، آج ایران کے پاس نہ لیڈر ہیں نہ ایئر فورس ہے اور نہ ہی نیوی۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنگ جلدی میں ختم نہیں کریں گے، جنگ ختم کریں اور ایرانی رجیم دوبارہ کھڑی ہو جائے ایسا نہیں ہونے دیں گے۔مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو 8.6 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے لیے کانگریس نظر اندازٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت ماری گئی ہے اور اب مسئلہ یہ ہے کہ بات کس سے کریں، ایرانی بندرگاہوں کی کامیابی سے ناکہ بندی جاری ہے، امریکی فوج ایرانی تیل کے ٹینکرز کو واپس بھیج رہی ہے، ایرانی جہاز پر جب حملہ کر کے قبضہ کیا، تو ایسا لگا تھا جیسے ہم بحری قزاق ہوں۔انھوں نے کہا ایران نے دنیا کے لیے آبنائے ہرمز بند کی ہم نے ہرمز ایران کے لیے ہی بند کر دی، اس نے گزشتہ 47 سال سے مشرق وسطیٰ کو یرغمال بنا رکھا تھا، آبنائے میں 400 جہاز کھڑے ہیں باہر آئے تو تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔