مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو 8.6 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے لیے کانگریس نظر انداز

Wait 5 sec.

واشنگٹن (02 مئی 2026): امریکا نے ہنگامی صورت حال کو جواز بناتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں کو 8.6 ارب ڈالر سے زائد اسلحے کی فروخت کی منظوری دے دی۔روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگریس کے جائزے کو نظر انداز کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو 8.6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی فوجی فروخت کی منظوری دے دی۔امریکی محکمہ خارجہ کے یہ اعلانات جمعہ کو اس وقت سامنے آئے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو شروع ہوئے 9 ہفتے مکمل ہو چکے ہیں اور ایک کمزور جنگ بندی کو نافذ ہوئے 3 ہفتوں سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک ہنگامی صورت حال موجود ہے جس کے تحت ان ممالک کو فوری طور پر اسلحہ فروخت کرنا ضروری ہے، لہٰذا اس عمل کے لیے کانگریس کے جائزے کی شرط کو معاف کر دیا گیا۔اسرائیل، قطر، کویت اور یو اے ای کو جدید اسلحہ فراہم کیا جائے گا، جس میں پیٹریاٹ میزائل، اے پی کے ڈبلیو ایس اور بیٹل کمانڈ سسٹمز کی فروخت شامل ہے۔ اعلانات میں قطر کو 4.01 ارب ڈالر مالیت کی ’پیٹریاٹ ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس سسٹم‘ کی بحالی سروسز اور 992.4 ملین ڈالر مالیت کے ایڈوانسڈ پریسیژن کِل ویپن سسٹمز (APKWS) کی فروخت کی منظوری شامل ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہاسی طرح کویت کو 2.5 ارب ڈالر مالیت کے مربوط جنگی کمانڈ سسٹم کی فروخت اور اسرائیل کو 992.4 ملین ڈالر مالیت کے APKWS کی منظوری بھی دی گئی۔ محکمہ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کو 147.6 ملین ڈالر کے APKWS کی فروخت کی بھی اجازت دی۔امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے کیے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ امریکا-اسرائیل کے ایران پر حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔محکمہ خارجہ کے مطابق قطر، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو ’اے پی کے ڈبلیو ایس‘ کی فروخت میں مرکزی ٹھیکیدار بی اے ای سسٹمز تھا۔ اسی طرح آر ٹی ایکس اور لاک ہیڈ مارٹن کویت کو مربوط جنگی کمانڈ سسٹم اور قطر کو پیٹریاٹ دفاعی نظام کی فراہمی میں اہم ٹھیکیدار تھے۔ جب کہ نارتھروپ گرومن بھی کویت کے معاہدے میں ایک اہم ٹھیکیدار تھا۔گزشتہ برسوں کے دوران واشنگٹن کو کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ فوجی تعلقات پر تنقید کا سامنا رہا ہے، کیوں کہ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق ان ممالک میں اقلیتوں، صحافیوں، اختلافی آوازوں، ایل جی بی ٹی کمیونٹی اور مزدوروں کے خلاف پابندیوں اور مبینہ زیادتیوں کے واقعات پائے جاتے ہیں۔ تاہم ان ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حمایت یا ان میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔اسرائیل کے لیے امریکی حمایت بھی انسانی حقوق کے ماہرین کی تنقید کا نشانہ رہی ہے، خاص طور پر غزہ پر اسرائیلی حملوں کے باعث، جن میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوئے، قحط جیسی صورت حال پیدا ہوئی اور ماہرین اور اقوام متحدہ کی ایک تحقیق نے اسے نسل کشی قرار دینے کے امکانات ظاہر کیے۔