امریکا میں خاتون سائنسدان کی پراسرار موت کے بعد یو ایف او کے حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں، ایمی ایسکریج کی موت سے قبل ہونے والے پیغامات نے معاملے کو کسی حد تک مشکوک بنا دیا۔امریکی ریاست الاباما کے شہر ہنسویل سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ خاتون سائنسدان ایمی ایسکریج کی موت ایک بار پھر مباحث کا موضوع بن گئی ہے۔اس حوالے سے یو ایف او ریسرچ کمیونٹی میں نئی قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں، مذکورہ خاتون سائنسدان جون 2022 میں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں، جبکہ حکام نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔وہ جدید پروپلشن ٹیکنالوجی اور غیر روایتی سائنسی نظریات پر تحقیق کے حوالے سے جانی جاتی تھیں اور انسٹی ٹیوٹ فار ایگزوٹک سائنس کی شریک بانی بھی تھیں۔ایک رپورٹ کے مطابق خاتون سائنسدان کی پراسرار موت سے قبل بھیجے گئے پیغامات نے اعلیٰ سطح کے سائنسدانوں کی اموات اور گمشدگیوں سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے جنہوں نے نئے سوالات کو جنم دیا۔حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ان کی موت سے متعلق مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے کسی سے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کا ذکر کیا تھا اور انہیں مبینہ طور پر دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے تھے، تاہم یہ دعوے تاحال کسی سرکاری تحقیق سے ثابت نہیں ہوسکے۔کچھ رپورٹس میں ان کے قریبی دوست کے حوالے سے نجی پیغامات کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جن میں انہوں نے خود کو دباؤ اور نشانے پر ہونے کا احساس ظاہر کیا تھا، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔اس بحث کے دوران یو ایف او کمیونٹی سے وابستہ دیگر شخصیات، خصوصاً ڈیوڈ ولکاک کے حوالے سے بھی موازنہ کیا جا رہا ہے، لیکن حکام نے ان واقعات کے درمیان کسی قسم کے تعلق کی تصدیق نہیں کی۔واضح رہے کہ سرکاری سطح پر ایمی ایسکریج کی موت خودکشی قرار دی گئی ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش زیادہ تر معلومات غیر مصدقہ دعوؤں اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔