الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے بینکوں کی جانب سے اپنی سطح پر صارفین کے اکاؤنٹ من مانے طریقے سے منجمد کرنے پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت کے مطابق بینک ایک ٹرسٹی کے طور پر کام کرتا ہے اس لیے اسے کسی جانچ ایجنسی کی طرح کام نہیں کرنا چاہیے۔جسٹس شیکھر بی سراف اور جسٹس اودھیش کمار چودھری کی ڈویژن بنچ نے ’انڈین اوورسیز بینک‘ پر 50 ہزار کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ بینک نے بغیر کسی درست بنیاد کے ایک صارف کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ رقم 4 ہفتوں کے اندر کھاتہ دار کو واپس کی جائے۔ یہ معاملہ ’میسرس ایس اے انٹرپرائزز‘ نامی کمپنی سے متعلق ہے، جو ماہی پروری کی مشینری کا کاروبار کرتی ہے۔ اس کمپنی نے بینک کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔مدارس کی جانچ کا معاملہ: الہ آباد ہائی کورٹ کی انسانی حقوق کمیشن پر سخت تنقید، کہا- ’مسلمانوں کی لنچنگ پر خاموشی کیوں؟‘درخواست کے مطابق 16 جنوری 2026 کو کمپنی کے اکاؤنٹ میں آرٹی جی ایس کے ذریعے 23 لاکھ روپے جمع ہوئے تھے۔ بینک نے اس ٹرانزیکشن کو مشکوک مانتے ہوئے اکاؤنٹ منجمد کر دیا تھا۔ اس وقت بینک نے دلیل دی تھی کہ کمپنی نے کھاتہ کھولنے کے وقت اپنی سالانہ آمدنی صرف 5.76 لاکھ روپے بتائی تھی۔ اس صورت میں انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت بینک نے کمپنی کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا۔معاملے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے پایا کہ بینک اکاؤنٹ کسی سائبر کرائم کی معلومات کی وجہ سے منجمد نہیں کیا گیا تھا۔ بینک نے خود ہی تفتیشی ایجنسی کا کردار نبھایا۔ چنانچہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینک خود رقومات کے ذرائع کا تعین نہیں کر سکتے۔ اکاؤنٹ منجمد کرنے کے لیے پولیس، ای ڈی یا سی بی آئی جیسی ایجنسیوں سے ہدایات درکار ہوتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مناسب بنیادوں کے بغیر اکاؤنٹس کو منجمد کرنا ایک ’پریشان کرنے والا‘ رجحان ہے۔ اس طرح کی من مانی کارروائیاں کاروبار میں خلل ڈالتی ہیں اور کھاتہ داروں کی شبیہہ پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔