واشنگٹن(2 مئی 2026): امریکی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ قطر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفے میں دیے گئے بوئنگ طیارے نے اپنی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔رپورٹ کے مطابق طیارے میں ضروری ترامیم اور فلائٹ ٹیسٹنگ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور اب اس پر رنگ و روغن کا عمل جاری ہے۔ یہ طیارہ رواں برس موسمِ گرما میں اپنی پہلی باقاعدہ پرواز بھرے گا۔واضح رہے کہ قطر نے یہ طیارہ مئی 2025 میں بطور تحفہ پیش کیا تھا، جسے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے تمام وفاقی قواعد و ضوابط اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قبول کر لیا تھا۔ اب یہ طیارہ امریکی صدارتی فضائی بیڑے کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔رپورٹ کے مطابق ایئرفورس ون کے طور پر استعمال ہونے والے موجودہ دو طیارے تقریباً چار دہائیوں سے پرواز کر رہے ہیں اور ٹرمپ انہیں تبدیل کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران انہوں نے اوول آفس میں ایک نئے جمبو جیٹ کا ماڈل بھی نمائش کے لیے رکھا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب روانہ، قطری طیارے کے تحفے کو ایئر فورس وَن میں ڈھالا جائے گاانہوں نے اس صورتحال کو "مکمل طور پر درہم برہم” قرار دیا ہے اور شکایت کی ہے کہ ایئرفورس ون ان طیاروں جتنا شاندار نہیں ہے جو بعض عرب رہنما استعمال کرتے ہیں۔ 400 ملین ڈالر مالیت کے قطری طیارے کو "آسمانی محل” قرار دیا گیا ہے جو پرتعیش رہائش اور بہترین فنشنگ سے آراستہ ہے۔تاہم جب صدارتی سفر کی بات آتی ہے تو سیکیورٹی سب سے اہم تشویش ہوتی ہے۔ موجودہ ایئرفورس ون طیارے سرد جنگ کے اختتام پر خاص طور پر اسی مقصد کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ایئرفورس ون طیارے ایٹمی دھماکے کے اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان میں سیکیورٹی کی متعدد خصوصیات موجود ہیں، جیسے کہ میزائل مخالف دفاعی نظام اور طیارے کے اندر ہی ایک آپریشن تھیٹر۔ یہ طیارے فضا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت سے بھی لیس ہیں، اگرچہ صدر کی موجودگی میں کبھی اس کی ضرورت نہیں پڑی۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ قطر کے سابقہ طیارے میں کون سی دفاعی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ فضائیہ نے ان تبدیلیوں پر آنے والی لاگت ظاہر نہیں کی، لیکن گزشتہ سال قانون سازوں نے اشارہ دیا تھا کہ یہ اخراجات ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔