تربوز کھانے سے اموات کا معاملہ، فارنسک رپورٹ میں بڑا انکشاف

Wait 5 sec.

ممبئی: مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں بریانی اور تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت کے معاملے میں فارنسک کی ابتدائی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 25 اپریل کو جے جے مارگ علاقے میں مقیم عبداللہ ڈوکادیا، اہلیہ نسرین اور بیٹیاں عائشہ اور زینب نے اپنے گھر میں رشتہ داروں کو دعوت دی تھی جس میں بریانی تیار کی گئی تھی ان تمام نے مل کر بریانی کھائی اور دعوت ختم ہونے کے بعد رشتہ دار اپنے گھر چلے گئے۔دعوت ختم ہونے کے بعد گھر کے چاروں افراد نے تربوز بھی کھایا، جس کے چند گھنٹوں کے اندر انہیں شدید قے شروع ہوگئی، فوری اسپتال متنقل کیا گیا تاہم دوران علاج چاروں چل بسے۔واقعہ کے بعد شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ آیا یہ اموات فوڈ پوائزننگ کے باعث ہوئیں یا نہیں، تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد جاری فارنسک رپورٹ نے معاملے کو نیا رخ دے دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چاروں کے جسمانی اعضا کا رنگ غیر معمولی طور پر سبز ہوچکا تھا، جو عام فوڈ پوائزننگ میں نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ عبداللہ کے جسم میں خطرناک کیمیائی مادہ“مارفین”کی موجودگی بھی پائی گئی، جس سے زہریلی شے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔پولیس نے اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد مختلف زاویوں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس کیس میں پولیس کے ساتھ طبی ماہرین، فارنسک ٹیم اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے حکام بھی شامل ہیں۔کیا تربوز پر کیڑے مار دوا کا اسپرے اہلخانہ کی موت کی وجہ بن گیا؟متاثرہ خاندان کے کھانے کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تربوز کہاں سے خریدا گیا تھا، جس کی وجہ سے تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔