واشنگٹن : امریکی صدر ٹرمپ نے یورپی گاڑیوں پر ٹیرف پچیس فیصد تک بڑھانے کا اعلان کردیا، ان محصولات کا باقاعدہ اطلاق آئندہ ہفتے سے متوقع ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر ٹیرف میں 25 فیصد تک اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں نئی تجارتی کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا "مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اگلے ہفتے سے یورپی یونین سے آنے والی تمام گاڑیوں اور ٹرکوں پر محصولات میں اضافہ کر دیا جائے گا۔”صدر ٹرمپ نے مزید واضح کیا کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ یورپی یونین امریکا کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کر رہا، یورپ کے ساتھ موجودہ تجارتی توازن امریکا کے حق میں نہیں ہے۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ 25 فیصد اضافی ٹیرف کا اطلاق صرف درآمد شدہ گاڑیوں پر ہوگا، جبکہ امریکا میں پہلے سے موجود یورپی یونین کی گاڑیوں اور ٹرکوں کے مینوفیکچرنگ پلانٹس اس ٹیرف سے مستثنیٰ ہوں گے، ان محصولات کا باقاعدہ اطلاق آئندہ ہفتے سے متوقع ہے۔یورپی کمیشن نے امریکی صدر کے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین اپنے تمام وعدوں پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھیں گے اور اس حوالے سے امریکا سے ان کے وعدوں کی وضاحت بھی طلب کی جا رہی ہے۔معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیرف نافذ کر دیے گئے تو اس سے نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی تجارت میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر جرمنی اور فرانس جیسے بڑے آٹو ایکسپورٹرز پر پڑے گا۔