فلوریڈا (02 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کا 10 کروڑ بیرل تیل فروخت کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان ’’بہترین تعلقات‘‘ قائم ہیں، اب تک وینزویلا سے 100 ملین بیرل تیل فروخت کیا جا چکا ہے جو ٹیکساس بھیجا گیا اور وہاں ریفائن کیا گیا۔امریکی صدر نے کہا وینزویلا کی قیادت اور عوام کے ساتھ ہمارا تعلق اچھا جا رہا ہے، امریکا کی بڑی تیل کمپنیاں بھی وینزویلا جا رہی ہیں، اور امریکی اسٹاک مارکیٹ 3 دن سے اچھی جا رہی ہے۔انھوں نے بتایا وینزویلا کا تیل ٹیکساس جاتا ہے، وہاں ریفائن ہوتا ہے، اگلے ایک مہینے میں مزید 100 ملین بیرل تیل آئے گا، ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکا وینزویلا کے تیل سے ’’سینکڑوں ارب ڈالر‘‘ کمائے گا۔ہم کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے، ٹرمپاس سے پہلے بھی انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں کم از کم سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، اور اس بات پر زور دیا کہ امریکا وینزویلا کے تیل کی پروسیسنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ امریکی آئل کمپنیوں کو وینزویلا میں بھاری سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور یہ بھی کہا تھا کہ امریکا وہاں تیل کی پیداوار اور پروسیسنگ میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔دوسری طرف روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاووروف نے فروری میں کہا تھا کہ امریکی حملوں کے بعد روسی کمپنیوں کو وینزویلا سے نکالا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہم نے ویت نام میں 19 سال گزارے، عراق میں 12 سال گزارے، اور ایران میں 6 ہفتے گزارے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے، روس ایک دن کی جنگ لڑنے گیا اور 4 سال سے لڑ رہا ہے۔انھوں نے کہا امریکا میں آج جتنا تیل نکالا جا رہا ہے اتنا امریکی تاریخ میں کبھی نہیں نکالا گیا، سعود ی عرب اور روس سے جتنا تیل نکلتا ہے، ہم امریکا میں اس سے دگنا تیل نکال رہے ہیں، میری آمد سے قبل ہم خلا کے معاملے میں روس اور چین سے پیچھے تھے،اب ہم بہت آگے ہیں۔