جمعرات (30 اپریل) کی دیر شام مغربی بنگال کی برسراقتدار پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو میں ٹی ایم سی نے اسٹرانگ روم میں پوسٹل بیلٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا، جس کے بعد پارٹی لیڈران کا متعلقہ مقام پر پہنچنا شروع ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود بھی وہاں پہنچ گئیں اور دھرنا و احتجاج شروع ہو گیا۔ اپوزیشن بی جے پی نے اسے سیاسی ڈرامہ قرار دیا۔ معاملہ بڑھنے پر الیکشن کمیشن کو پریس کانفرنس کر کے صورتحال واضح کرنی پڑی۔ اس دوران ریاست میں ایک زبردست ہلچل دیکھنے کو ملی جو شام سے دیر رات تک جاری رہی۔مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ ’عوامی‘ تو ہیں، لیکن الیکشن کمیشن نے کئی پردے ڈال رکھے ہیںمیڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی شام 3 بجے تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا، پھر ایک ای میل موصول ہوئی جس میں اطلاع دی گئی کہ شام 4 بجے اسٹرانگ روم کھولا جائے گا۔ جانکاری ملتے ہی ٹی ایم سی رہنما کنال گھوش اور ششی پانجا موقع پر پہنچے، لیکن انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ٹی ایم سی نے اس پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نمائندوں کے بغیر پوسٹل بیلٹ اور پنک پیپر کو سنبھالنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ پارٹی نے اس کی ویڈیو بھی شیئر کی، جس کے بعد سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا۔ کنال گھوش اور ششی پانجا اسٹرانگ روم کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے اور کچھ ہی دیر میں ممتا بنرجی بھی موقع پر پہنچ گئیں۔وزیر اعلیٰ کی اپیل پر بڑی تعداد میں ٹی ایم سی کے حامی پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔ ممتا بنرجی نے حامیوں سے 24 گھنٹے اسٹرانگ روم کی نگرانی کرنے کی اپیل کی تھی۔ وہ سخاوت میموریل اسکول میں قائم اسٹرانگ روم پہنچیں اور تقریباً 3 گھنٹے وہاں رہیں۔ اسی اسکول میں بھوانی پور اسمبلی حلقہ کی ای وی ایم مشینیں رکھی گئی ہیں، جہاں سے خود ممتا بنرجی امیدوار ہیں۔ اسٹرانگ روم سے باہر آنے کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں اندر جانے سے روکا۔ تاہم جب انہوں نے کہا کہ انہیں انتخابی ضوابط کے مطابق سیل شدہ کمرے کے باہر تک جانے کا حق ہے، تو انہیں اجازت دے دی گئی۔’ بی جے پی امیدواروں کے ساتھ کیوں گھوم رہے ہیں سی آر پی ایف جوان‘، ٹی ایم سی لیڈر نے لگائے سنگین الزامممتا بنرجی نے کئی مقامات پر بے ضابطگیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو وہ لڑیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ای وی ایم مشینیں چھیننے کی کوشش کرے گا تو وہ پوری طاقت سے مقابلہ کریں گی۔ ٹی ایم سی کے جارحانہ رویے، دھرنے اور الزامات کے درمیان کئی گھنٹوں تک ماحول گرم رہا، اور اس دوران ٹی ایم سی اور بی جے پی حامیوں کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔اس درمیان ٹی ایم سی نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے ساتھ مل کر جمہوریت سے کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اسٹرانگ روم کے اطراف ان کی معلومات کے بغیر سرگرمیاں ہو رہی ہیں، جو غلط ہے۔ کنال گھوش نے کہا کہ طے پایا تھا اطلاع کے بغیر اسٹرانگ روم کی سیل نہیں توڑی جائے گی، پھر ایسا کیوں ہوا؟ انہوں نے اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ غلط کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں تو بی جے پی کو تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔مغربی بنگال: نتائج سے قبل ای وی ایم اسٹرونگ روم پر کشیدگی، ترنمول کانگریس اور بی جے پی کارکنوں میں جھڑپٹی ایم سی کے الزامات پر الیکشن کمیشن کو رات کے وقت پریس کانفرنس کرنی پڑی۔ کمیشن نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسٹرانگ روم میں رکھے بیلٹس کی چھان بین کی جا رہی تھی، جو ایک معمول کی کارروائی ہے۔ کمیشن کے مطابق تمام پارٹیوں کو اس کی پیشگی اطلاع دی جا چکی تھی اور بیلٹ باکس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ یہ بھی جانکاری دی گئی کہ ’خودی رام انوشیلن سنٹر‘ کے تمام 7 اسٹرانگ روم مکمل طور پر محفوظ ہیں، جبکہ پوسٹل بیلٹس کی چھنٹنی کا عمل ایک دوسرے کمرے میں جاری تھا۔