کانگریس نے عالمی یومِ مزدور کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو مزدور مخالف قرار دیتے ہوئے نئے لیبر کوڈ پر نظرثانی، منریگا کی بحالی اور قومی سطح پر کم از کم یومیہ اجرت 400 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسیوں نے نہ صرف مزدوروں کے حقوق کو کمزور کیا ہے بلکہ ملک میں بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام کو بھی بڑھا دیا ہے۔ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کی ’ہم دو، ہمارے دو‘ پالیسی نے کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دی ہے، جس کے نتیجے میں مزدور مخالف لیبر قوانین نافذ کیے گئے۔ ان کے مطابق ان قوانین نے ملازمت کے تحفظ کو کمزور کر دیا ہے اور کنٹریکٹ پر مبنی نظام کو فروغ دیا ہے، جہاں ملازمین کو کسی بھی وقت نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف صنعتی علاقوں میں بے چینی کا ماحول ہے، خواہ وہ نوئیڈا ہو، پانی پت کا آئی او سی ایل پلانٹ، رائے کھیڑا میں اڈانی کی فیکٹری، پتراتو کی این ٹی پی سی یونٹ یا سری پیرمبدور میں سام سنگ کی فیکٹری، ہر جگہ مزدور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق نئے لیبر کوڈ نے مزدوروں کے بنیادی حقوق کو کمزور کیا ہے، اس لیے اس کی فوری نظرثانی ضروری ہے۔کانگریس صدر نے منریگا کے حوالے سے بھی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اسے مؤثر طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے مزدوری کے اخراجات کا 40 فیصد بوجھ ریاستوں پر ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے کئی ریاستیں اسکیم کو جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 69 فیصد مزدور ایسے ہیں جو کم از کم اجرت سے بھی کم پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ گزشتہ ایک دہائی میں مہنگائی کے مقابلے میں مزدوری میں اضافہ نہ ہونے کے برابر رہا ہے، جس سے عام آدمی کی معاشی حالت مزید کمزور ہوئی ہے۔کھڑگے نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور حکومت نے تقریباً 30 لاکھ سرکاری خالی آسامیوں کو پُر نہیں کیا۔ ان کے مطابق عوامی شعبے کے اداروں کی نجکاری سے روزگار کے مواقع ختم ہو گئے ہیں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منریگا کو نہ صرف بحال کیا جائے بلکہ شہری علاقوں تک اس کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ اس کے علاوہ قومی کم از کم اجرت 400 روپے یومیہ مقرر کی جائے، صحت کو بنیادی حق بنایا جائے اور مزدوروں کو 25 لاکھ روپے تک کی صحت سہولت فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی غیر منظم شعبے کے مزدوروں کے لیے زندگی اور حادثاتی بیمہ کو بھی یقینی بنایا جائے۔کانگریس نے زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ ٹھیکہ داری نظام کو محدود کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جو مزدوروں کو تحفظ، روزگار کے مواقع اور باعزت زندگی فراہم کرے۔