ٹرمپ کو ایران سے متعلق نئے فوجی منصوبوں پر بریفنگ دیدی گئی

Wait 5 sec.

واشنگٹن(یکم مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے نئے فوجی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں امریکی فوجی قیادت نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے مختلف آپشنز صدر کے سامنے پیش کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بریفنگ 45 منٹ تک جاری رہی، جس میں اہم عسکری اور حکومتی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر اور جنرل ڈین کین نے تیار کردہ منصوبے پیش کیے، جن میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حملوں کے مختلف پہلوؤں اور آپشنز پر غور کیا گیا۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ بریفنگ خطے کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون جدید ہتھیاروں کی تعیناتی پر بھی غور کر رہا ہے، جن میں ڈارک ایگل نامی ایک نیا ہائپر سونک میزائل شامل ہے۔فوکس نیوز کے مطابق یہ نظام تقریباً 2 ہزار میل (3,218 کلومیٹر) دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر ایران کے باقی بیلسٹک میزائل لانچرز کو ہدف بنا سکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ B-1B Lancer بمبار طیارے، جو ہائپرسونک ہتھیاروں سے لیس کیے جا سکتے ہیں، خطے میں اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں اور بھاری مقدار میں اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔