تہران (02 مئی 2026): ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے جنگ کے مستقل خاتمے کیلئے امن منصوبہ پاکستان کو پیش کردیا ہے۔تہران میں تعینات سفیروں اور غیرملکی سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے پاکستان کو پاکستان کو بطور ثالث امن منصوبہ پیش کردیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نائب ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے مفاد پر مبنی سفارت کاری پر یقین رکھتا آیا ہے اور اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری اور محاذ آرائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ایرانی نائب وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اب واشنگٹن پرمنحصر ہے کہ وہ پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی تجاویز پر کیا ردعمل دیتا ہے، قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے تاکہ اپنی سلامتی اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، تاہم امریکہ کے حوالے سے بداعتمادی برقرار رہے گی۔یاد رہے کہ ایران کیخلاف جنگ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع کی گئی تھی، جو 8 اپریل سے تعطل کا شکار ہے، اس دوران پاکستان میں فریقین کے درمیان ایک دورِ مذاکرات بھی ہوا تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکا۔امریکا سے مذاکرات : ایران نے نئی تجاویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیج دیں