مہنگے ایندھن نے توڑی ’ایئر انڈیا‘ کی کمر، تقریباً 100 پروازیں کم کرنے کا لیا فیصلہ

Wait 5 sec.

مہنگے ایندھن (جیٹ فیول) نے ہندوستانی ہوابازی سیکٹر کی کمر توڑ دی ہے۔ اس کا براہ راست اثر فلائٹ آپریشنز پر نظر آنے لگا ہے۔ ایئر انڈیا نے بڑھتے ہوئے خرچ کے دباؤ کو پیش نظر رکھتے ہوئے روزانہ تقریباً 100 پروازیں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تخفیف گھریلو اور بین الاقوامی دونوں روٹس پر نافذ ہوگی۔ خصوصاً یوروپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا اور سنگاپور جیسے روٹس پر ہوائی خدمات میں بڑی کمی دیکھنے کو ملے گی۔ آج یعنی یکم مئی 2026 کو بھی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے نتیجے میں بین الاقوامی ایئرلائنز کے لیے جیٹ ایندھن (اے ٹی ایف) کی قیمت میں 76.55 امریکی ڈالر فی کلو لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ایئرلائنز کے لیے پروازیں حسب سابق یقینی بنانا مشکل بنا دیا ہے۔ اسی دباؤ کے تحت ایئر انڈیا نے روزانہ تقریباً 100 پروازیں کم کرنے کا بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس وقت ایئر انڈیا روزانہ تقریباً 1100 پروازیں چلاتی ہے، لیکن جون کے شیڈول میں خاص طور پر بین الاقوامی روٹس پر بڑی کٹوتی کی تیاری ہے۔ یوروپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا اور سنگاپور جیسے اہم روٹس پر خدمات کم کی جائیں گی، جہاں ایندھن کی لاگت سب سے زیادہ ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے ایئرلائنز کے منافع پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ دہلی میں اے ٹی ایف کی قیمت مارچ کے مقابلے تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جس سے آپریٹنگ لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز (ایف آئی اے)، جس میں انڈیگو، ایئر انڈیا اور اسپائس جیٹ شامل ہیں، پہلے ہی حکومت کو خبردار کر چکی ہے کہ اگر لاگت کم کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو خدمات معطل کرنی پڑ سکتی ہیں۔ اگرچہ حکومت نے اپریل میں گھریلو روٹس پر کچھ راحت دی تھی، لیکن بین الاقوامی آپریشنز کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ایئر انڈیا کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق کئی روٹس پر ایئرلائن اپنا خرچ تک وصول نہیں کر پا رہی، جس کے باعث پروازوں میں کمی ناگزیر ہو گئی ہے۔ صورتحال کو مزید خراب کرنے والی ایک بڑی وجہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھی ہے، جس کے سبب یوروپ اور شمالی امریکہ جانے والی پروازوں کو طویل راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ایندھن کا استعمال اور عملہ کے اخراجات دونوں بڑھ گئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اپریل کے آخر تک اوسط قیمت 179.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو فروری کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد زیادہ ہے۔ چونکہ ایندھن ایئرلائنز کی مجموعی لاگت کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ٹکٹ کی قیمتوں اور خدمات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایئر انڈیا کو پہلے ہی 20,000 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جس کے باعث ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز پر ایئر انڈیا کو خسارے سے نکالنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔