وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: ملزم کی حملے سے قبل اسلحے کے ساتھ سیلفی منظرِ عام پر

Wait 5 sec.

واشنگٹن(30 اپریل 2026): وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر پر فائرنگ کے واقعے سے قبل ملزم کی اسلحے کے ساتھ سیلفی منظرِ عام پر آگئی۔امریکی حکومت کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ایک یادداشت میں نئی تصاویر شامل کی گئی ہیں، جن میں گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر پر فائرنگ کے ملزم کول ٹامس ایلن کو حملے سے قبل ہوٹل کے کمرے میں اسلحے کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق استغاثہ نے یہ تصاویر اور ملزم کی 25 اپریل کے واقعے سے قبل کی سرگرمیوں کی تفصیلات عدالت میں اس مقصد کے لیے جمع کرائی ہیں تاکہ مقدمے کی سماعت تک ایلن کی حراست برقرار رکھی جا سکے۔ 31 سالہ ملزم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی کوشش سمیت کئی الزامات میں صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔استغاثہ کے مطابق تصاویر میں ایلن کو اپنے ہوٹل کے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑے پوز دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں اس کے جسم پر کئی ہتھیار بندھے ہوئے ہیں، جن میں ایک میان میں چھری اور گولیوں کا بیگ شامل ہے۔ایلن پر الزام ہے کہ ہفتے کی شب جب وہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں سیکیورٹی چیک پوائنٹ توڑ کر اندر داخل ہوا تو اس کے پاس سیمی آٹومیٹک ہینڈ گن، پمپ ایکشن شاٹ گن اور تین چھریاں موجود تھیں۔حملہ ڈراما تھا؟ کیرولائن لیوٹ کا ردِ عملیاد رہے کہ فائرنگ کے واقعے کے دوران صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی ونس، کابینہ کے ارکان اور دیگر اعلیٰ حکام کو فوری طور پر ہوٹل کے بال روم سے نکالا گیا۔ اس حملے میں سیکرٹ سروس کا ایک ایجنٹ زخمی ہوا، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔نئی عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے حملے سے چند منٹ قبل اپنے فون پر کئی ویب سائٹس چیک کیں تاکہ یہ یقینی بنا سکے کہ صدر ٹرمپ ڈنر میں موجود ہیں۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے ایک لمبا کوٹ پہن رکھا تھا جس میں شاٹ گن چھپائی گئی تھی، جسے اس نے حملے سے ٹھیک پہلے اتار پھینکا اور شاٹ گن لہراتے ہوئے میٹل ڈیٹیکٹر سے گزر کر بال روم کی طرف دوڑ لگا دی۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم 21 اپریل کو کیلیفورنیا سے ٹرین کے ذریعے واشنگٹن پہنچا تھا۔ اس نے حملے سے تھوڑی دیر قبل اپنے خاندان کو ایک ای میل بھیجی تھی جس میں لکھا تھا کہ انتظامیہ کے عہدیدار نشانے پر ہیں، جن کی ترجیح اعلیٰ ترین عہدے سے ادنیٰ تک ہے۔