اسرائیلی فوج کی غزہ میں بربریت جاری، مزید 67 فلسطینی شہید

Wait 5 sec.

غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، تازہ حملوں میں مزید 60 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق غزہ بھر میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 67 فلسطینی شہید ہوگئے، شہید ہونے والوں میں امداد کے متلاشی 6 افراد بھی شامل تھے۔فلسطینی طبی کارکنوں کے مطابق امداد کے 3 متلاشی افراد کو وسطی غزہ میں اسرائیلی فوج نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔اس کے علاوہ اسرائیلی فضائی حملوں میں خان یونس کے مغربی علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسیر ایلان ویس کی لاش برآمد کر لی ہے۔ یہ آپریشن فوج کی سدرن کمانڈ نے ”انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ، شن بیٹ اور اسپیشل فورسز کے تعاون سے کیا۔فوج نے کہا کہ نیشنل سینٹر فار فارنزک میڈیسن میں شناختی عمل کے بعد مین پاور ڈائریکٹوریٹ میں یرغمالیوں کی ٹیم نے [ویس’] خاندان اور بیری کمیونٹی کو اطلاع دی۔فوج نے بتایا کہ ویس کبٹز بیری کا رکن تھا اور اسے 7 اکتوبر 2023 کو اس کے گھر سے مار کر لے جایا گیا تھا۔موت کے وقت ویس کی عمر 55 سال تھی۔ ان کی اہلیہ شیری اور بیٹی نوگا کو بھی یرغمال بنا لیا گیا لیکن بعد میں نومبر 2023 میں عارضی جنگ بندی کے تحت رہا کر دیا گیا۔اسرائیل کے یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم، جس نے غزہ میں اسیروں کی واپسی کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، ایلان ویس کے نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔سعودی عرب: 60 واں طیارہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر روانہایکس پر بیان میں انہوں نے کہا کہ ہمارے دل آج خاندان کے ساتھ ہیں،ان کی واپسی سے خاندان کو 692 دنوں تک بے یقینی کے ڈراؤنے خواب میں انتظار کرنے کے بعد کچھ سکون ملے گا۔