کیا اسرائیل لندن آرمز فیئر میں شرکت کرے گا؟ برطانوی فیصلے نے حیران کر دیا

Wait 5 sec.

لندن (29 اگست 2025): برطانیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کو اسلحوں کی نمائش (لندن آرمز فیئر) میں مدعو نہیں کیا جائے گا۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ تنازع پر برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان بگڑتے ہوئے سفارتی تعلقات کے تناظر میں اسرائیلی سرکاری نمائندوں کو عالمی دفاعی نمائش ’لندن آرمز فیئر‘ میں مدعو نہیں کر رہے ہیں۔برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا ’’اسرائیلی حکومت کا غزہ میں اپنے فوجی آپریشن کو مزید وسعت دینا ایک غلط فیصلہ ہے، اسی لیے ہم تصدیق کرتے ہیں کہ DSEI UK 2025 (ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی ایکوپمنٹ انٹرنیشنل) میں اسرائیلی سرکاری وفد کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔‘‘لندن میں آئندہ ماہ 9 ستمبر سے شروع ہونے والا آرمز فیئر 12 ستمبر تک جاری رہے گا۔ تاہم انفرادی سطح پر اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو اس نمائش میں شرکت کی اجازت حاصل ہے۔فلسطینی حکام کے ویزے منسوخ، محمود عباس کا شدید رد عملدوسری جانب اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے اس فیصلے کو ’’امتیازی سلوک پر مبنی اور افسوس ناک عمل‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل اپنا قومی پویلین نمائش میں نہیں لگائے گا اور مکمل طور پر شرکت سے دست بردار ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ میں اسرائیل کے غزہ میں جاری بربریت پر تنقید میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ کو توسیع دینے اور غزہ شہر پر قبضے کے منصوبوں پر۔برطانوی حکومت کے ترجمان نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا ’’اس جنگ کا فوری خاتمہ سفارتی حل سے ہونا چاہیے، جنگ بندی فوراً نافذ کی جائے، یرغمالیوں کی رہائی ہو، اور غزہ کے عوام تک انسانی امداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔‘‘DSEI برطانیہ کا سب سے بڑا دفاعی تجارتی شو ہے، جو ہر دو سال بعد لندن کے ڈاک لینڈز میں منعقد ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر سے سیکڑوں دفاعی کمپنیاں اپنی عسکری ٹیکنالوجی اور ساز و سامان کی نمائش کرتی ہیں۔ برطانوی حکومت اس نمائش کی پشت پناہی کرتی ہے اور غیر ملکی حکام کو بھی مدعو کرتی ہے۔اسرائیل کی وزارت دفاع نے برطانوی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک پیشہ ور دفاعی صنعت کی نمائش میں غیر متعلقہ سیاسی عوامل کو شامل کرنے کے مترادف ہے۔ تاہم برطانوی وزارت نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیلی کمپنیاں انفرادی طور پر شرکت کرنا چاہیں تو انھیں مکمل سرکاری حمایت حاصل ہوگی۔ادھر لبرل ڈیموکریٹس کی دفاعی امور کی ترجمان ہیلن میگویئر نے حکومت پر تنقید کی ہے کہ حکومت اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرتی ہے اور یہ اقدام اسلحے کی برآمدات پر پابندی کے متبادل ہرگز نہیں ہے، حکومت حقیقت سے منہ موڑ رہی ہے، اسلحے پر پابندی نہ لگانا انسانی المیے پر حکومت کی ذمہ داری سے انحراف ہوگا۔