بازیاب اسرائیلی یرغمالی کی باقیات کی شناخت ہو گئی، ادان شتیوی کب مارا گیا؟

Wait 5 sec.

تل ابیب: غزہ سے واپس آنے والے اسرائیلی یرغمالی کی باقیات کی شناخت ہو گئی۔اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس ہفتے غزہ سے دو اسرائیلی مغوی بازیاب کرائے گئے تھے، جن میں سے دوسرے کی باقیات کی شناخت ہو گئی، وہ ایک طالبِ علم ادان شتیوی کی لاش ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ایک کارروائی کے دوران ادان شتیوی کی لاش بازیاب کرائی تھی، جمعہ کو ایک بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے ایلان ویز کی لاش اور ایک اور قیدی کی باقیات برآمد کں ہیں۔نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف فرانزک میڈیسن میں شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد گزشتہ شام کو اعلان کیا گیا کہ وہ طالب علم ادان شتیوی تھا، ادان کی عمر 28 سال تھی جب وہ 7 اکتوبر 2023 کو نووا میوزک فیسٹیول میں حماس کے حملے میں مارا گیا اور اس کی لاش غزہ لے جائی گئی، شتیوی نے اس فیسٹیول میں فوٹوگرافر کے طور پر شرکت کی تھی۔حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ شہیدوزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ آئی ڈی ایف اور شن بیت کے مشترکہ آپریشن سے دونوں افراد کی لاشیں واپس لائی گئیں، شتیوی ایک ہونہار طالب علم اور ایک بہادر آدمی تھا، جس نے نووا میوزک فیسٹیول حملے کے دوران بہت سے شرکا کو بچانے میں مدد کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ شتیوی نے دو دوستوں کے ساتھ جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اپنی گاڑی کو قابو میں نہ رکھ سکا اور گاڑی ایک درخت سے ٹکرا گئی، یہ گاڑی گولیوں سے چھلنی پائی گئی تھی۔ایک سال تک شتیوی کے خاندان کو اس کے زندہ ہونے کی امید تھی لیکن پھر حملے کی پہلی برسی کے موقع پر حکام نے اطلاع دی کہ نوجوان میلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔