مراٹھا ریزرویشن تحریک: منوج جرانگے کی بھوک ہڑتال تیسرے دن میں داخل، حکومت پر دباؤ

Wait 5 sec.

ممبئی: مراٹھا برادری کے لیے ریزرویشن کی مانگ نے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے۔ سماجی کارکن منوج جرانگے کی غیر معینہ بھوک ہڑتال اتوار کو تیسرے دن میں داخل ہو گئی ہے اور ان کے مطالبات کو لے کر حکومت پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔جرانگے جمعہ سے جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مراٹھا سماج کو کنبی (کسان طبقہ) کے طور پر تسلیم کیا جائے تاکہ انہیں او بی سی زمرے میں شامل کرتے ہوئے دس فیصد ریزرویشن فراہم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت کو ایک باضابطہ حکمنامہ (جی آر) جاری کر کے یہ واضح کرنا ہوگا کہ مراٹھا اور کنبی ایک ہی ہیں۔اس معاملے پر حکومت بھی متحرک نظر آ رہی ہے۔ مہاراشٹر کے آبی وسائل کے وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل نے ہفتے کی رات دیر گئے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق، یہ میٹنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی جس میں مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اس میٹنگ میں بی جے پی کے سینئر لیڈر گيريش مہاجن بھی موجود تھے۔وکھے پاٹل، اس وزارتی ذیلی کمیٹی کے سربراہ ہیں جو مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے اور برادری کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی حالت کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ یہ کمیٹی آج ایک بار پھر میٹنگ کرے گی تاکہ ممکنہ راستہ تلاش کیا جا سکے۔اس سے قبل ہفتے کو حکومت کے نمائندے، جس میں ہائی کورٹ کے سبکدوش جسٹس سندیپ شنڈے بھی شامل تھے، جرانگے سے ملاقات کے لیے آزاد میدان پہنچے تھے۔ جسٹس شنڈے اس کمیٹی کے صدر ہیں جسے مراٹھا برادری کے کنبی ریکارڈ کی جانچ کے لیے بنایا گیا ہے۔ تاہم جرانگے نے صاف الفاظ میں کہا کہ صرف بات چیت کافی نہیں ہے، بلکہ فوری طور پر ایسا جی آر جاری کیا جائے جو مراٹھا برادری کو کنبی تسلیم کرے۔واضح رہے کہ او بی سی زمرے میں پہلے ہی 350 سے زائد برادریاں شامل ہیں۔ ایسے میں مراٹھا کو کنبی مان کر ریزرویشن دینا ایک حساس مسئلہ ہے۔ عدالت میں بھی یہ سوال اٹھ چکا ہے اور کئی فیصلے زیر التوا ہیں لیکن جرانگے کے احتجاج اور ہزاروں کی تعداد میں موجود حامیوں کے سبب ریاستی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔