واشنگٹن (29 اگست 2025) عدالت نے امریکی صدر کے زائد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ امریکا کو تباہ کردے گا۔غیرملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اپیل کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس فیصلے سے صدر کی معاشی پالیسی کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ امریکی حکومت فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرسکتی ہے، سپریم کورٹ میں اپیل کا موقع دینے کے لیے فیصلے کے نفاذ میں تاخیر کا کہا گیا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو اپیل دائر کرنے تک مذکورہ ٹیرف 14 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کی شدید مخالفت اور تنقید کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی جانبدار عدالت کا فیصلہ قرار دیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اگر یہ ٹیرف ختم ہوگئے تو یہ ملک کے لیے ایک مکمل تباہی کے مترادف ہوگا، تمام ٹیرف اب بھی نافذ ہیں۔صدرٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف پر فیصلہ سنانے والی اپیل کورٹ غلط اور جانبدار ہے، سپریم کورٹ کی مدد سے ٹیرف کو قوم کے فائدے کیلئےاستعمال کریں گے۔تاہم انہوں نے ایک بار پھر امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کی مدد سے یہ ٹیرف ملک کے مفاد میں بحال کر دیے جائیں گے۔مذکورہ فیصلہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع یو ایس کورٹ آف اپیلز فار دی فیڈرل سرکٹ نے 7-4 کی اکثریت سے سنایا۔