پنجاب میں حکام کے مطابق تینوں دریا مختلف ہیڈورکس اور بیراجز سے گزرتے ہوئے جنوبی پنجاب اور سندھ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ 1988 کے بعد یہ ان تینوں دریاؤں میں آنے والی سب سے بڑی طغیانی ہے۔ دریائے راوی میں دو سے تین ستمبر تک ایک لاکھ 25 ہزار سے ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک کا ریلا سدھنائی پہنچے گا۔