بہار میں ووٹر لسٹ گھوٹالہ، بڑی تعداد میں خواتین بے دخل، لاکھوں زندہ ووٹرز مردہ قرار: کانگریس

Wait 5 sec.

کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ بہار کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور ہیرا پھیری کی گئی ہے اور لاکھوں مستحق ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے غیر قانونی طور پر خارج کر دیے گئے ہیں اور اس عمل کے پیچھے منظم سازش کارفرما ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے بہار کی راجدھانی پٹنہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کو اب تک 89 لاکھ سے زائد شکایات پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق ریاست کے 90540 بوتھس میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کھیڑا نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن خود تسلیم کر چکا ہے کہ تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام کاٹے گئے ہیں، مگر یہ اعداد و شمار اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہیں۔ووٹر ادھیکار یاترا: آرہ میں اجلاس سے راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو کا خطاب، ’ووٹ چوروں کو شکست دینے کا عہد‘کانگریس کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں کٹوتی کے عمل میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کھیڑا کے مطابق کم از کم 7613 بوتھس پر ایسے شواہد ملے ہیں جہاں 70 فیصد یا اس سے زیادہ خواتین ووٹروں کے نام کاٹے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں خواتین کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ کیا یہ جمہوری نظام میں خواتین کی آواز دبانے کی ایک سوچی سمجھی سازش نہیں ہے؟کانگریس کے مطابق ہزاروں بوتھس پر ووٹروں کو غلط طور پر ’مردہ‘ قرار دے کر ان کے نام کاٹے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 7931 بوتھس پر 75 فیصد سے زائد ووٹروں کو وفات یافتہ ظاہر کر دیا گیا، حالانکہ وہ زندہ ہیں اور باقاعدگی سے اپنی شہریت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پون کھیڑا نے کہا کہ اس قسم کی سنگین کوتاہی کسی غلطی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا عمل معلوم ہوتا ہے۔’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کو ملی عوامی حمایت سے سیاسی ماہرین حیران، بہار میں کانگریس کی پوزیشن مستحکم... عتیق الرحمنکانگریس نے مزید بتایا کہ کئی بوتھس پر ایسے ووٹر پائے گئے ہیں جنہیں دو دو ای پی آئی سی نمبر جاری کیے گئے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری میں بڑے پیمانے پر بدنظمی اور بددیانتی ہوئی ہے۔ کھیڑا نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کی خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ جانتے بوجھتے یہ سب نظرانداز کر رہے ہیں۔پریس کانفرنس میں کانگریس نے الیکشن کمیشن کے رویے پر بھی سوال اٹھائے۔ کھیڑا نے کہا کہ کمیشن کی جانب سے ذرائع کے حوالے سے یہ باتیں سامنے آئیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے شکایت درج نہیں کرائی لیکن یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے پاس باقاعدہ رسیدیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شکایتیں جمع کرائی گئی ہیں۔’ووٹر ادھیکار یاترا، ایک یاترا جس نے تاریخ رقم کر دی، بہار کو اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی طاقت دی‘کانگریس نے اس مسئلے کو عوامی تحریک کی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔ ’ووٹردھیکار یاترا‘ کے دوران پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوام خود آگے بڑھ کر بتا رہے ہیں کہ ان کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے جا چکے ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈور ٹو ڈور ویری فکیشن کرایا جائے تاکہ ہر ووٹر کا حق محفوظ رہے۔پون کھیڑا نے سخت لہجے میں کہا کہ ووٹ کٹوتی کا یہ عمل دراصل جمہوری ڈھانچے پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ووٹ کا حق ہی چھین لیا جائے تو پھر انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ اس مسئلے پر خاموش رہنا ملک کی جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔