بہار میں ’ایس آئی آر‘ (ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی) نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ایس آئی آر پورے ملک میں کرانے کا عزم الیکشن کمیشن نے ظاہر کر دیا ہے، لیکن کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے اس کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ اس درمیان آر ٹی آئی کے تحت ’ایس آئی آر‘ سے متعلق پوچھے گئے کچھ سوالات کے الیکشن کمیشن نے ایسے جواب دیے ہیں، جو فکر انگیز ہے۔ کانگریس نے یہ سوالات اور ان کے جواب اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر پیش کیے ہیں، ساتھ ہی الیکشن کمیشن کے جواب کو شرمناک قرار دیا ہے۔RTI Exposes Election Commission: No Records of ‘Independent Appraisal’ Behind SIR pic.twitter.com/t4FzG3rO0M— Congress (@INCIndia) August 29, 2025کانگریس نے کے ذریعہ ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’آر ٹی آئی میں الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر سے منسلک کچھ سوالات پوچھے گئے۔ الیکشن کمیشن نے جو جواب دیے ہیں، وہ حیران کرنے والے ہیں۔‘‘ اس کے بعد کانگریس نے آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے سوالات اور الیکشن کمیشن کے جواب پیش کیے ہیں، جو اس طرح ہیں:سوال: ایس آئی آر کے فیصلہ کو الیکشن کمیشن نے کیسے منظوری دی؟ اس کا طریقۂ کار کیا تھا؟جواب: اس کی کوئی فائل موجود نہیں ہے۔Shocking replies by Election Commission to RTI queries--No files exist on how decision to undertake nation-wide Special Intensive Revision (SIR) was processed & approved by ECI-No record of the ‘independent appraisal’ which ECI claimed in its affidavit is the basis for SIR… pic.twitter.com/LW49tLmovI— Anjali Bhardwaj (@AnjaliB_) August 28, 2025سوال: آپ نے ایس آئی آر کے لیے جس ’آزادانہ تشخیص‘ کا حوالہ دیا تھا، وہ دکھا دیجیے۔جواب: ہمارے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔سوال: بہار میں 2003 کی ووٹر لسٹ نظرثانی کے گائیڈلائنس کی کاپی دیجیے۔جواب: وہ تو نہیں ہے، 2025 کا حکم لے لیجیے۔RTI में चुनाव आयोग से SIR से जुड़े कुछ सवाल पूछे गए। चुनाव आयोग ने जो जवाब दिए हैं, वो चौंकाने वाले हैं। ⦁ सवाल: SIR के निर्णय को चुनाव आयोग ने कैसे मंजूरी दी? इसकी प्रक्रिया क्या थी?⦁ जवाब: इसकी कोई फाइल मौजूद नहीं है⦁ सवाल: आपने SIR के लिए जिस 'स्वतंत्र मूल्यांकन' का…— Congress (@INCIndia) August 29, 2025ان سوالات اور ان کے جواب پیش کرنے کے بعد کانگریس نے لکھا ہے ’’صاف ہے کہ الیکشن کمیشن قصداً جانکاری کو چھپا رہا ہے، جو جمہوریت کے لیے بے حد خطرناک ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن کا کام صاف ستھری ووٹر لسٹ تیار کر غیر جانبدارانہ انتخاب کروانا ہے۔ لیکن افسوس کہ وہ ’ووٹ چوری‘ میں بی جے پی کا ساتھ دے رہا ہے، ثبوتوں کو ٹھکانے لگا رہا ہے، ملک سے سچائی چھپا رہا ہے۔ شرمناک!‘‘