الیکشن کمیشن نے بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق 60 لاکھ سے زائد زیر غور معاملوں کا تفصیلی ڈیٹا عوامی کر دیا ہے۔ اس پورے عمل میں اب تک مجموعی طور 90.66 لاکھ ووٹرس کے نام ہٹائے جا چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کمیشن نے پہلی بار ضلع وار سطح پر نام شامل کرنے اور ہٹانے کا ڈیٹا بھی شیئر کیا ہے، جس سے شفافیت میں اضافے کی امید ہے۔بنگال کے ’زیر غور ووٹرس‘ کا قصہ… کنال چٹرجیواضح رہے کہ مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کا عمل 3 مرحلوں میں مکمل ہوا۔ دسمبر 2025 میں ابتدائی ڈرافٹ تیار کرتے وقت 58.2 لاکھ نام ہٹائے گئے۔ فروری 2026 میں حتمی فہرست کی اشاعت تک مزید 5.46 لاکھ نام ہٹائے گئے۔ اس کے بعد عدالتی مداخلت اور تفصیلی تحقیقات کے بعد 27 لاکھ سے زائد نام ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا۔ ان تینوں مراحل کے بعد نکالے گئے ناموں کی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق ’لاجیکل ڈسکریپنسی‘ یعنی ڈیٹا میں تکنیکی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر 60 لاکھ سے زیادہ معاملات کو تحقیقات کے دائرے میں رکھا گیا تھا۔ ان معاملات کو ’انڈر ایڈجوڈیکیشن‘ کے زمرے میں رکھا گیا تھا تاکہ عدالتی افسران ان کا جائزہ لے سکیں۔ اب تک 59.84 لاکھ معاملات نمٹائے جا چکے ہیں۔ تحقیقات کے بعد 32.68 لاکھ اہل ووٹرس کے نام دوبارہ شامل کیے گئے، جبکہ 27.16 لاکھ نام نااہل پائے جانے پر ہٹائے گئے۔ بقیہ معاملے کا جائزہ اب بھی جاری ہے۔مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ ’عوامی‘ تو ہیں، لیکن الیکشن کمیشن نے کئی پردے ڈال رکھے ہیںقابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب مغربی بنگال ’ایس آئی آر‘ سے متعلق ضلع وار ناموں کے اندراج اور اخراج کا ڈیٹا عام کیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پوری کارروائی میں شفافیت لانا اور ووٹر لسٹ کی ساکھ کو مضبوط بنانا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں معاملات کو نمٹانا انتظامی طور پر ایک بڑا چیلنج تھا، جسے عدالتی افسران کی مدد سے مکمل کیا گیا۔ اب یہ تمام ڈیٹا عوامی طور پر دستیاب ہے، جس سے انتخابی عمل پر اعتماد مزید بحال ہونے کی امید ہے۔