تہران : ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں سربراہ سید مجید خادمی کی شہادت کی تصدیق کردی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ ان کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل مجید خادمی شہید ہو گئے اور اس حملے کا ذمہ دار "امریکی اور صیہونی دشمن” (امریکہ اور اسرائیل) کو قرار دیا ہے۔سرکاری میڈیا اور بی بی سی بنے بتایا کہ مجید خادمی کو پیر کی صبح نشانہ بنایا گیا، اگرچہ حملے کی صحیح جگہ اور نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم پاسدارانِ انقلاب نے اسے خطے میں جاری کشیدگی اور "تیسری مسلط جنگ” کا حصہ قرار دیا ہے۔مجید خادمی کو گزشتہ برس جون میں اس وقت انٹیلی جنس چیف مقرر کیا گیا تھا جب ان کے پیشرو محمد کاظمی بھی ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے، وہ کئی دہائیوں تک ایران کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔انہوں نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے سعید جلیلی نے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ "مجید خادمی کی شہادت انقلاب کی راہ کو مزید مضبوط کرے گی۔ یہ عظیم قربانی نہ صرف ان کے مشن کو جلا بخشے گی بلکہ دشمنوں کے زوال کو بھی تیز کرے گی، قوم پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھے گی اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کی کمی نہیں ہوگی۔”