اسرائیلی بمباری سے ایران میں یہودی عبادت گاہ مکمل تباہ

Wait 5 sec.

تہران (7 اپریل 2026): اسرائیل کی ایران پر وحشیانہ بمباری کے دوران تہران میں موجود یہودی عبادت گاہ بھی مکمل تباہ ہو گئی۔ایران کی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملے کے دوران تہران کے مرکزی علاقے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے قریب واقع ایک یہودی عبادت گاہ بھی مکمل تباہ ہو گئی۔رپورٹ کے مطابق علاقے کی تنگ گلیوں کے باعث قریبی عمارتوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ تایم اس حملے میں تاحال کسی جانی نقصان کی کوئی مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔ایرانی نشریاتی ادارے کی جانب سے اس حملے سے متعلق جاری ویڈیوز میں تباہی کے مناظر اور امدادی کارکنوں کو ملبہ ہٹاتے ہوئے ملبے تلے دبے ممکنہ شہریوں کی تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔Not even synagogues were spared in US–Israeli attacks: one in central Tehran was leveled to the groundIran is home to the second-largest Jewish population in West Asia, where they have lived in peace and harmony — at least until Israel attacked Iran pic.twitter.com/ToLaJfs3yi— Press TV (@PressTV) April 7, 2026دریں اثنا اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک نئی اور بڑی فضائی کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس میں ملک بھر کے مختلف انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ایران جنگ سے متعلق تمام خبریںاسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی میزائل حملوں کے پیش نظر دفاعی نظام کو الرٹ کر کرنے کے ساتھ شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔’ایٹمی جنگ ہو گئی تو کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا‘