نئی دہلی (8 اپریل 2026): ایران امریکا جنگ بندی میں جہاں دنیا پاکستان کے کردار کو سراہ رہی ہے وہیں بھارتی سیاستدانوں نے زہر اگلنا شروع کر دیا ہے۔پاکستان کی کامیاب ثالثی کے باعث 39 روز سے جاری ایران امریکا کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی ہوئی ہے۔ جہاں دنیا بھر میں پاکستان کی عالمی امن کے لیے اس کوششوں کو سراہا جا رہا ہے، وہیں بھارتی سیاستدان حواس باختہ ہو کر زہر اگل رہے ہیں۔بھارتی سیاستدان آپے سے باہر ہو کر اپنی اپنی بولی بول رہے ہیں کوئی مودی پر کڑی تنقید کر رہا ہے تو کوئی جنگ بندی میں پاکستان کے فاتحانہ کردار کو اپنے لیے تکلیف کا باعث بتا رہا ہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری کہتے ہیں خود ساختہ بنے وشواگورو مودی نے بھارت کو سفارتی محاذ پر ناکام بنا دیا، تکلیف یہ ہے کہ امریکا ایران امن مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے اور نئی دہلی منہ تکتا رہے گا۔ بھارت کی ناکام خارجہ پالیسی نے خطے میں پاکستان اور چین کا اثر و رسوخ بڑھا دیا ہے۔کانگریس رہنما جیرام رمیش نے بھی مودی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری بھارت کیلیے سنگین دھچکا ہے۔ مودی اور اس کی ٹیم کی ذاتی پالیسیاں بزدلانہ اور ناکام ہیں۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریںبھارتی اپوزیشن نے مودی کی پالیسی کو بزدلانہ اور بھارت کی شرمناک سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف یہ کہ جنگ کے دوران مودی نے اسرائیلی حملوں پر خاموشی سادھے رکھی، بلکہ وائٹ ہاؤس میں مودی نے اپنے دوست سے جو گفتگو کی وہ بھی نا قابل قبول ہے۔