سبریمالا معاملہ: سپریم کورٹ کی 9 رکنی آئینی بنچ آج سے شروع کرے گی سماعت

Wait 5 sec.

نئی دہلی: سبریمالا معاملہ ایک بار پھر قومی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے، جہاں سپریم کورٹ آج سے اس طویل عرصے سے زیر التوا معاملہ پر سماعت شروع کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالت عظمیٰ نے نو ججوں پر مشتمل ایک خصوصی آئینی بنچ کو تشکیل دیا ہے، جو اس حساس اور اہم مقدمہ کا ازسر نو جائزہ لے گی۔سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری فہرست کے مطابق، یہ بنچ چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت میں کام کرے گی اور سال 2018 کے اس تاریخی فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں پر غور کرے گی۔ اس فیصلے میں کیرالہ کے سبریمالا مندر میں ہر عمر کی خواتین کے داخلہ کی اجازت دی گئی تھی، جس پر ملک بھر میں مختلف آراء سامنے آئی تھیں۔اس 9 رکنی بنچ میں جسٹس بی وی ناگرتھنا، ایم ایم سندریش، احسان الدین امان اللہ، اروند کمار، اے جی مسیح، پرسنا بی ورالے، آر مہادیون اور جوئمالیہ باگچی شامل ہیں۔ عدالت کی کارروائی صبح 10:30 بجے شروع ہونے کی توقع ہے۔یہ معاملہ صرف مندر میں داخلہ تک محدود نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کے دائرہ کار سے متعلق کئی بنیادی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ مذہبی روایات اور آئینی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔سبریمالا مندر سونا چوری معاملہ: کیرالہ ہائی کورٹ کا سی بی آئی جانچ کا حکم دینے سے انکاراس سے قبل چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کا مکمل شیڈول طے کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ اس مقدمہ کی سماعت قابل قبول ہے۔ عدالت نے اس معاملہ میں فیصلہ کرنے کے لیے سات اہم قانونی سوالات بھی متعین کیے ہیں، جن پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔طے شدہ پروگرام کے مطابق، نظرثانی درخواستوں کی حمایت کرنے والے فریقین کے دلائل 7 سے 9 اپریل کے درمیان سنے جائیں گے، جبکہ اس کی مخالفت کرنے والے فریقین کو 14 سے 16 اپریل کے درمیان سنا جائے گا۔ اگر کوئی جوابی دلائل پیش کیے جاتے ہیں تو ان پر 21 اپریل کو غور کیا جائے گا اور حتمی بحث 22 اپریل تک مکمل ہونے کی امید ہے۔سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو پہلے ہی تحریری جوابات داخل کرنے کی ہدایت دی تھی اور وقت کی پابندی پر زور دیا تھا، کیونکہ آئینی بنچ کے معاملات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔سماعت سے قبل تروانکور دیوسوم بورڈ نے اپنی تحریری عرضداشت میں عدالت سے اپیل کی ہے کہ مذہب کو ایک برادری مرکز تصور کے طور پر سمجھا جائے اور عدالتیں عقیدہ پر مبنی روایات کی ازسر نو تشریح سے گریز کریں۔ دوسری جانب، سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت نظرثانی درخواستوں کی حمایت کرتی ہے۔