واشنگٹن (11 اپریل 2026): آرٹیمس II کے خلا نورد چاند کے گرد تاریخی پرواز کے بعد بہ حفاظت زمین پر واپس آ گئے، زمین سے پہلے کسی بھی انسان کے مقابلے میں زیادہ فاصلے تک سفر کرنے کے بعد آرٹیمس II کے خلا بازوں نے جمعہ کی رات کامیابی کے ساتھ سمندر میں لینڈنگ کر لی۔انسانی تاریخ کا سب سے طویل سفر جمعہ کی شام اس وقت اختتام پذیر ہوا جب ناسا کے آرٹیمس II کے خلاباز چاند کے گرد پرواز کے بعد زمین پر واپس آئے۔ عملے کا اوریون خلائی کیپسول، جس کا نام انٹیگریٹی تھا، بحرالکاہل میں سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے کے فوراً بعد سمندر میں اترا، جس کے ساتھ ہی 10 دن پر مشتمل اور 6 لاکھ 95,000 میل سے زائد فاصلے کا سفر مکمل ہوا، جو چاند کے دور دراز حصے سے آگے جا کر واپسی پر مشتمل تھا۔امریکی صدر ٹرمپ نے مشن کی کامیابی پر خلابازوں کو مبارک باد دی۔ اپنے پیغام میں کہا آرٹیمس II کا پورا سفر شان دار تھا، لینڈنگ بالکل درست تھی، یہ کامیابی ہمارے لیے باعث فخر ہے، خلابازوں سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کا منتظر ہوں، ہم دوبارہ ایسا مشن کریں گے اور اگلا قدم مریخ ہوگا۔آرٹیمس II کے 4 رکنی عملے (کمانڈر ریڈ وائز مین، پائلٹ وکٹر گلوور، مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ، اور مشن اسپیشلسٹ جیریمی ہینسن) نے زمین سے پہلے کسی بھی انسان کے مقابلے میں زیادہ فاصلہ طے کیا، اور ہمارے سیارے سے 252,756 میل دور تک پہنچے۔آرٹیمس II نے اپولو 13 کا ریکارڈ توڑ دیا، چاند کے عقب میں انسان پہلی بار اتنی دور پہنچ گئےجب خلائی عملہ اپولو 13 کے دوران قائم کیے گئے 248,655 میل کے پچھلے ریکارڈ سے آگے نکلا تو کینیڈین خلا نورد ہینسن نے اس موقع پر کہا ’’ہم اس لمحے کو اس نسل اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک چیلنج کے طور پر چنتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ریکارڈ زیادہ دیر تک قائم نہ رہے۔‘‘خلائی جہاز کی زمین پر واپسی کیسے ہوئی؟انٹیگریٹی نے اپنی تیز رفتار واپسی کا آغاز اس وقت کیا جب خلائی جہاز تقریباً 24,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے ماحول میں داخل ہوا۔ اس دوران مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا اور رگڑ کی وجہ سے رفتار کم ہونے لگی، جب کہ اس کی حرارت برداشت کرنے والی ڈھال (ہیٹ شیلڈ) کا درجہ حرارت تقریباً 3,000 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا۔منصوبے کے مطابق، تقریباً 22,000 فٹ کی بلندی پر 2 چھوٹے پیراشوٹ کھلنے تھے، جو رفتار کو کم کر کے تقریباً 200 میل فی گھنٹہ تک لے آتے، پھر تقریباً 6,000 فٹ پر مزید پیراشوٹ کھلتے، جس سے رفتار کم ہو کر تقریباً 20 میل فی گھنٹہ رہ جاتی، اور آخرکار کیپسول سمندر میں اتر جاتا۔انسانوں کو چاند لے جانے والا طاقت ور راکٹآرٹیمس II کا آغاز یکم اپریل کو ہوا، جب عملہ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے 322 فٹ بلند اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے روانہ ہوا، جو انسانوں کو لے جانے والا اب تک کا سب سے طاقت ور راکٹ ہے۔متعدد بار انجن جلا کر بلندی بڑھانے اور خلائی جہاز کے دستی کنٹرولز کی جانچ کے بعد، مشن کے دوسرے دن عملے نے ایک خاص انجن فائرنگ (ٹرانس لونر انجیکشن) انجام دی، جس نے انھیں چاند کی جانب روانہ کر دیا۔اگلے تین دنوں میں، عملے نے اوریون خلائی جہاز کے نظام کی جانچ کی، خلائی لباس پہننے کی مشق کی، راستے کی درستگی کے لیے مزید انجن جلائے، دوبارہ دستی طور پر کیپسول چلایا، اور چاند کے دور والے حصے کے گرد پرواز کی تیاری کی۔6 اپریل کو مشرقی وقت کے مطابق رات 12:41 بجے، آرٹیمس II چاند کے دائرۂ اثر میں داخل ہو گیا تھا، جہاں چاند کی کششِ ثقل زمین کی کششِ ثقل پر غالب آ جاتی ہے۔ اسی دن عملہ چاند کے سب سے قریب پہنچا، اور چاند کی سطح سے تقریباً 4,000 میل کی بلندی پر پرواز کی۔