’ہیمنت کی پولیس دہلی آ کر کسے ڈرانا چاہتی ہے؟‘ پون کھیڑا کے خلاف آسام پولیس کی کارروائی پر کانگریس کا سوال

Wait 5 sec.

آسام میں اسمبلی انتخاب کی تشہیر کا آج آخری دن ہے، لیکن آسام کی سیاست میں جاری ہلچل کا اثر دہلی میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے 2 دن قبل پریس کانفرنس کر آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور ان کی بیوی رنکی بھوئیاں سرما پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ رنکی بھوئیاں نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی، جس کے بعد آسام پولیس 7 اپریل کو دہلی پہنچ گئی اور دہلی پولیس کے ساتھ کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی رہائش پر چھاپہ مار دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ آسام پولیس کو پون کھیڑا تو نہیں ملے، لیکن کچھ دستاویزات گھر سے برآمد ہوئے ہیں۔हिमंता बिस्वा सरमा और उनके परिवार पर भ्रष्टाचार के गंभीर आरोप लगे हैं। पवन खेड़ा जी ने सबूतों के साथ अपनी बात रखी है।लेकिन हिमंता इन आरोपों पर जवाब देने के बजाए गंदी-गंदी गालियां दे रहे हैं। सवाल है- उनकी पुलिस दिल्ली आकर किसे डराना-धमकाना चाहती है। हिमंता के भ्रष्टाचार के… pic.twitter.com/g04VABo6Y0— Congress (@INCIndia) April 7, 2026پون کھیڑا کے خلاف ہوئی اس کارروائی پر کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ ’’ہیمنت بسوا سرما اور ان کی فیملی پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پون کھیڑا جی نے ثبوتوں کے ساتھ اپنی بات رکھی ہے۔ لیکن ہیمنت ان الزامات پر جواب دینے کی جگہ گندی گندی گالیاں دے رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ ’’ان کی (ہیمنت بسوا سرما کی) پولیس دہلی آ کر کسے ڈرانا دھمکانا چاہتی ہے۔‘‘یہ بیان سپریا شرینیت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہیمنت کی بدعنوانی کے بارے میں پورا آسام جانتا ہے، اور 9 اپریل کو اس کا حساب ہوگا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’ہیمنت بسوا سرما کی حرکتیں بتا رہی ہیں کہ وہ بوکھلائے ہوئے ہیں۔ بدعنوانی کرتے ہوئے پکڑ لیے گئے ہیں۔ اس لیے فضول کی باتیں کرنے کی جگہ ہیمنت بسوا سرما ان الزامات پر جواب دیں۔‘‘ آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیانات کی تنقید کرتے ہوئے سپریا نے کہا کہ انھیں گالی گلوج کرنے کی جگہ عوام کے سامنے سچائی بیان کرنا چاہیے۔ وہ جو بکواس کر رہے ہیں، وہ ایک وزیر اعلیٰ کو زیب نہیں دیتا ہے۔