واشنگٹن (12 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران ایران کو ہتھیار فراہم کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی صدر نے ہفتے کی دوپہر کو وائٹ ہاؤس سے میامی روانہ ہوتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کی، صحافی نے سوال کیا کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا اگر چین ایسا کرتا ہے تو اسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔صدر ٹرمپ کا یہ بیان سی این این کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں حالیہ انٹیلیجنس جائزوں سے واقف تین افراد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بیجنگ آئندہ چند ہفتوں میں تہران کو فضائی دفاعی نظام بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر حکومتی رہنماؤں کو قتل کر دیا، اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور ان خلیجی عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔بری خبر ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا، امریکا واپس جا رہے ہیں، نائب صدر جے ڈی وینسجاری علاقائی تنازع کے دوران چین کی جانب سے ایران کو براہِ راست ہتھیاروں کی فراہمی جنگ کو مزید شدت دے سکتی ہے اور وسیع جغرافیائی و سیاسی نتائج کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر امریکا اور چین کے تعلقات کے لیے، جو پہلے ہی تجارتی تنازعات، فوجی کشیدگی اور ایران کی جنگ کی وجہ سے کشیدہ ہیں۔چینی ہتھیاروں کی کسی بھی تصدیق شدہ ترسیل سے اس تنازع میں بیجنگ کی شمولیت کی ایک نئی سطح سامنے آ جائے گی، جنگ بندی کی کوششوں کے علاوہ یہ ٹرمپ کو مئی کے وسط میں چین کے طے شدہ دورے سے قبل ایک مشکل صورتِ حال میں ڈال دے گا۔